
گرمی اور حبس کے باعث لو اور جلدی مسائل میں اضافہ
تھانے، 11 جون (ہ س) اس سال تھانے شہر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 42 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جانے سے شہری شدید گرمی سے پریشان ہیں۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش، بڑھتی ہوئی حبس اور مسلسل گرم موسم کے باعث لو (ہیٹ اسٹروک) اور گرمی سے متعلق شکایات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بچوں اور بزرگ شہریوں کو خاص طور پر اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اگرچہ گزشتہ چند دنوں کے دوران تھانے میں بعض مقامات پر بارش ہوئی ہے، تاہم اس سے گرمی میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ اس کے برعکس بارش کے بعد فضا میں نمی بڑھنے سے لوگوں کو زیادہ پسینہ آ رہا ہے۔ گردن، کمر، سینہ، بغلوں اور ہاتھوں پر سرخ دانے، خارش، جلن اور جلد کے متاثر ہونے کی شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مسائل بچوں اور بزرگوں میں زیادہ پائے جا رہے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق مسلسل پسینے سے بھیگے کپڑے، گرم اور مرطوب ماحول اور جلد کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنا ہیٹ اسٹروک اور جلدی بیماریوں کی اہم وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پسینے کے غدود سے متعلق یہ مسائل عام سمجھے جاتے ہیں، لیکن انہیں نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ خارش کرنے سے جلد پر زخم بن سکتے ہیں اور بیکٹیریائی انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے ابتدا ہی سے مناسب احتیاط ضروری ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ روزانہ وافر مقدار میں پانی پیا جائے اور چھاچھ، لیموں پانی، شربت اور دیگر مشروبات کا استعمال بڑھایا جائے۔ سوتی اور ڈھیلے کپڑے پہننے، دن میں دو مرتبہ نہانے اور جلد کو صاف اور خشک رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ تنگ لباس سے گریز کرنے اور دوپہر کے وقت غیرضروری طور پر باہر نہ نکلنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔
تھانے ضلع کے سول سرجن ڈاکٹر کیلاش پوار نے کہا کہ بڑھتی ہوئی حبس کے باعث پسینے کے غدود سے متعلق مسائل، جسم میں پانی کی کمی اور جلدی انفیکشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے شہریوں کو زیادہ پانی پینے اور جسم میں پانی کا توازن برقرار رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ جلد پر نمودار ہونے والے دانوں یا خارش کو کھرچنے سے گریز کیا جائے اور اگر مسئلہ شدت اختیار کرے تو گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے