ایران-امریکہ کی جنگ بحرین پہنچی، منامہ میں امریکی بحریہ کے مرکزی کمان ہیڈکوارٹرز پر ڈرون حملہ
ایران-امریکہ کی جنگ بحرین پہنچی، منامہ میں امریکی بحریہ کے مرکزی کمان ہیڈکوارٹرز پر ڈرون حملہ تہران/منامہ/واشنگٹن، 10 جون (ہ س)۔ ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑی جنگ خلیج فارس پر واقع بحرین کے دارالحکومت منامہ تک پہنچ گئی ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران
منامہ: واقع امریکی بحریہ کے مرکزی کمان ہیڈکوارٹرز کے جاں باز لہروں سے ٹکراتے ہوئے۔ انٹرنیٹ میڈیا فائل تصویر


ایران-امریکہ کی جنگ بحرین پہنچی، منامہ میں امریکی بحریہ کے مرکزی کمان ہیڈکوارٹرز پر ڈرون حملہ

تہران/منامہ/واشنگٹن، 10 جون (ہ س)۔ ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑی جنگ خلیج فارس پر واقع بحرین کے دارالحکومت منامہ تک پہنچ گئی ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی ایران پر ہوئے امریکی حملوں کے جواب میں بدھ کی علی الصبح (یو اے ای وقت کے مطابق) بحرین کے دارالحکومت منامہ میں واقع امریکی بحریہ کے مرکزی کمان ہیڈکوارٹرز پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے کہا کہ اس نے منگل کے روزسیلف ڈیفنس میں جنوبی ایران پر حملے کیے۔ یہ کارروائی پیر کے روز آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی لڑاکا ہیلی کاپٹر اپاچے کو مار گرائے جانے کے جواب میں کی گئی تھی۔

الجزیرہ، سی بی ایس نیوز، گلف نیوز اور اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں حکام نے کہا کہ کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لیے ایران کا فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) فعال کر دیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ ایران نے بوشہر کے اوپر ایک ہیلی کاپٹر اور ایک امریکی ڈرون (ایم کیو-9) کو مار گرایا ہے۔ اس دوران سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے تصدیق کی ہے کہ کچھ امریکی ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ دونوں نے صرف ایک مقام کا ذکر کیا ہے اور وہ ہے - بحرین کے دارالحکومت منامہ میں واقع امریکی بحریہ کا مرکزی کمان ہیڈکوارٹرز۔ خاص بات یہ ہے کہ ایران میں خاتم الانبیاء ایک اہم فوجی کمان ہے۔ خاتم الانبیاء کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تحت ملک کی مسلح افواج، روایتی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان فوجی آپریشنل اور تزویراتی دفاعی و جارحانہ مہمات کے تال میل کا سب سے بڑا مرکز کہا جاتا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ایران نے کتنے ڈرون طیاروں سے منامہ میں واقع امریکی بحریہ کے مرکزی کمان ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس حملے میں میزائلوں کا استعمال ہوا ہے یا نہیں۔ خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے بیان میں بنیادی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ملک کے جنوبی علاقوں میں امریکی فوج کی جارحیت (جس کا بہانہ ان کا ہیلی کاپٹر گرایا جانا تھا) کے جواب میں ملک کی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے مل کر علاقے میں موجود کچھ امریکی ٹھکانوں پر زبردست حملہ کیا۔

خاتم الانبیاء کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکی فوج نے ایران کے خلاف جارحیت دہرائی، تو علاقے میں واقع تمام امریکی ٹھکانوں پر مزید زوردار اور بڑے پیمانے پر حملے کیے جائیں گے۔ سینٹ کام نے منگل کی دیر رات کہا کہ پیر کو اپاچے ہیلی کاپٹر کو مار گرائے جانے کے جواب میں ایران پر سیلف ڈفینس کے لیے حملے کیے گئے۔ بدلہ پورا کر لیا گیا ہے۔ دوسری طرف، اپاچے کے واقعے پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانیوں نے اس ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جو آبنائے ہرمز کے پاس حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ دونوں پائلٹوں کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس کا جواب بہت سخت ہو گا۔

اس بیان سے کچھ گھنٹے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوششیں ’’آخری مرحلے‘‘ میں ہیں اور ’’دو یا تین دنوں‘‘ میں معاہدہ ہو سکتا ہے۔ اپاچے کے واقعے کے بعد بات چیت کس پوزیشن میں ہے، یہ واضح نہیں ہو سکا ہے۔ ادھر، اسرائیل نے لبنان میں ایران نواز جنگجو گروپ حزب اللہ کے خلاف فوجی مہم جاری رکھی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ منگل کو جنوبی شہر ٹائر پر ہوئے نئے حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہو گئے۔ ایران نے پیر کو وارننگ دی تھی کہ لبنان میں اسرائیل کے کسی بھی نئے حملے کا وہ جواب دے گا۔

تہران میں حکام نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے پاس ایران کے جنوبی ساحل پر دھماکوں کے بعد اب صورتحال پرسکون ہے۔ امریکی ڈیجیٹل نیوز آوٹ لیٹ ایکسپیوس نے رپورٹ دی ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے آس پاس ایران کے کئی فضائی دفاعی اور رڈار نظاموں پر حملہ کیا۔ اس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ دوسری طرف، بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بدھ کو بتایا کہ ملک میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے امریکی بیس پر حملہ کیا ہے۔ وزارت نے ایکس پر کہا، ’’سائرن بجا دیا گیا ہے۔ شہریوں اور مقیم افراد سے پرسکون رہنے اور قریبی محفوظ مقام پر جانے کی اپیل کی جاتی ہے‘‘۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی نگرانی کرنے والی امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے ایکس پر کہا کہ ایران سے اپاچے کو مار گرانے کا بدلہ پورا کر لیا گیا ہے۔ امریکی فضائیہ اور بحریہ کے لڑاکا طیاروں سے درست نشانے والے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے پاس ایرانی فضائی دفاعی نظاموں، گراونڈ کنٹرول اسٹیشنوں اور نگرانی کرنے والے رڈار سائٹوں پر حملہ کیا گیا۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ اس کی افواج نے بدھ کی علی الصبح بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹرز پر ڈرون حملہ کیا۔ ’شاہد-136‘ ون-وے اٹیک ڈرون سے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 2.30 بجے (یو اے ای وقت کے مطابق صبح 3.30 بجے) منامہ میں امریکی بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ بھلائی اسی میں ہے کہ امریکی فوج خطہ چھوڑ کر چلی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب ہمارا امتحان نہ لے، ایران کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

ایلیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ کا پانچواں بیڑا انتہائی اہم ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کے ملک بحرین کے دارالحکومت منامہ کے جفئیر میں واقع ہے۔ سرکاری طور پر اس فوجی اڈے کا نام نیول سپورٹ ایکٹیوٹی بحرین ہے۔ اس کے اوپر تقریباً 25 لاکھ مربع میل کے سمندری علاقے کی نگرانی کرنے کی ذمہ داری ہے۔ اس کے دائرے میں خلیج فارس، بحیرہ احمر، خلیج عمان، بحیرہ عرب اور بحر ہند کے حصے شامل ہیں۔ اس کا سب سے ضروری کام آبنائے ہرمز، نہر سویز اور باب المندب جیسے دنیا کے سب سے حساس اور اہم سمندری راستوں سے گزرنے والی تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی جہازوں کو سیکورٹی فراہم کرنا ہے۔ یہ بیس امریکی بحریہ کے مرکزی کمان کا ہیڈکوارٹرز بھی ہے، جو براہِ راست امریکی سینٹرل کمان کو رپورٹ کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande