غزہ مذاکرات کے تعطل ختم کرنے کےلئے مصر، قطر اور ترکیہ کی مشترکہ کوششیں
قاہرہ،10جون(ہ س)۔ غزہ کی پٹی میں مذاکرات کے تعطل کو ختم کرنے کے لیے علاقائی سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔باخبر ذرائع نے القاہرہ نیوز چینل کو بتایا کہ مصر، قطر اور ترکیہ فی الحال جاری مذاکرات کے دور کی پیش رفت پر قریبی اور مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ی
غزہ مذاکرات کے تعطل ختم کرنے کےلئے مصر، قطر اور ترکیہ کی مشترکہ کوششیں


قاہرہ،10جون(ہ س)۔

غزہ کی پٹی میں مذاکرات کے تعطل کو ختم کرنے کے لیے علاقائی سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔باخبر ذرائع نے القاہرہ نیوز چینل کو بتایا کہ مصر، قطر اور ترکیہ فی الحال جاری مذاکرات کے دور کی پیش رفت پر قریبی اور مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔یہ کوششیں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے فیصلوں پر حتمی اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔القاہرہ نیوز کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قاہرہ، دوحہ اور انقرہ کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ سفارتی راستے میں موجود موجودہ جمود کو توڑنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کوششوں کا مقصد شرم الشیخ امن کانفرنس کے تمام نتائج پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منظور کردہ منصوبے کے متوازی ہے۔

مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالث کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تعینات پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ جنگ کا رک جانا فلسطینی عوام کے حوصلے بلند کرنے اور موجودہ چیلنجوں کے سامنے انہیں اپنی سرزمین پر ثابت قدم رکھنے کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ سہ فریقی اتفاق رائے صرف سیاسی اور سیکیورٹی پہلوو¿ں تک محدود نہیں ہے بلکہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ثالث کار فوری طور پر ابتدائی بحالی کے آپریشنز شروع کرنے اور انسانی تباہ کن صورتحال کو کم کرنے کے لیے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے منصوبوں پر بلا تاخیر عمل درآمد کے لیے دباو¿ ڈال رہے ہیں۔

یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ دو سال جاری رہنے کے بعد سنہ 2025ءکے اکتوبر میں جنگ بندی معاہدے کے تحت رک گئی تھی، تاہم پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے وقفے وقفے سے جاری رہے۔اسرائیل نے نام نہاد یلو لائن میں مزید پیش قدمی کی ہے اور تباہ حال فلسطینی علاقے کے 60 فیصد سے زائد حصے پر اپنا کنٹرول وسیع کر لیا ہے۔امریکہ کی حمایت یافتہ امن منصوبہ کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے ابھی تک کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے، جس میں غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، حماس کو غیر مسلح کرنا اور پٹی کی تعمیر نو شامل تھی۔اسرائیلی افواج اب بھی پٹی کے نصف سے زیادہ رقبے پر قابض ہیں جہاں انہوں نے رہائشیوں کو نقل مکانی کا حکم دیا ہے اور باقی ماندہ عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے۔حماس کے زیر انتظام پولیس فورس جس میں تقریباً 10 ہزار اہلکار شامل ہیں، صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ہونے والی بات چیت میں اختلاف کا نقطہ بن گئی ہے۔ حماس انہیں ایک نئی پولیس فورس میں شامل کرنے پر بضد ہے جبکہ اسرائیل تنظیم سے وابستہ کسی بھی فرد کے کردار کو مسترد کرتا ہے۔پٹی کی کل آبادی تقریباً 20 لاکھ افراد ساحل کے ساتھ ایک تنگ پٹی میں رہ رہی ہے جن میں سے اکثر حماس کے زیر کنٹرول عارضی خیموں یا متاثرہ عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande