
ہیلسنکی، 10 جون (ہ س)۔ بدھ کے روز ایک اہم بیان میں، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈرا سٹب نے یورپی سیاست کو ایک نیا موڑ دیتے ہوئے کہا کہ اب یورپ کے لیے روسی قیادت کے ساتھ سفارتی بات چیت کابالکل صحیح وقت ہے۔
فن لینڈ کی قیادت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماسکو میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفارت کاروں نے روسی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کے لیے وقت مانگا ہے۔
اسٹب نے یہاں ایک سوئس اخبار سے نامہ نگاروں کو بتایا، مجھے یقین ہے کہ یہ یورپ کے لیے آگے بڑھنے اور روسی قیادت کے ساتھ، خاص طور پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ سفارتی بات چیت شروع کرنے کا بہترین وقت ہوگا۔
اسٹب نے تجویزپیش کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو امریکہ کا انتظار کرنے کے بجائے پہل کرنی چاہئے، خاص طور پراس لئے بھی کہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ امریکی حکومت کہیں اور تنازعات (جیسے ایران کے ساتھ تناو) میں مصروف ہے۔
پہلا قدم کے طورپریورپی یونین (ای یو) کے لیے روس کے ساتھ ابتدائی بات چیت اور رابطہ شروع کرنا چاہیے۔ دوسرا، اگر یورپی یونین کا طریقہ کار ناکام ہو جاتا ہے، تو ای3 (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) کو مذاکرات کے انعقاد کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ اگر یہ بھی ناکام ہو جاتا ہے تو یورپ کو سفارت کاری کے دوسرے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔
اسٹب نے سوال کیا کہ کیا یورپ کے لیے اب بھی مکمل طور پر امریکی خارجہ پالیسی پر انحصار کرنا محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا، ہمیں یہ کام امریکیوں کے ساتھ مل کر کرنا ہے، لیکن اپنے آپ سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ کیا اس وقت روس اور یوکرین کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی واقعی یورپ کے مفاد میں ہے؟ اگر نہیں — اور بعض صورتوں میں ایسا نہیں ہے — تو ہمیں خود اس کے بارے میں کچھ کرنا ہو گا۔
فن لینڈ کے صدر اسٹب کا یہ بیان یورپی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ فن لینڈ شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (این اے ٹی او) کا رکن بننے کے بعد سے روس کے خلاف سخت ترین موقف رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس بیان کے پیچھے کئی ایسے حالات کارفرما ہیں، جن کا اب یورپی رہنماو¿ں کو احساس ہونے لگا ہے۔
ادھر ماسکو سے اطلاعات ہیں کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفارت کاروں نے روس کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کی درخواست کی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بدھ کے روز اجتماعی سلامتی کے معاہدے کی تنظیم (سی ایس ٹی او) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس کے بعد کہا کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے سفیر روسی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کی درخواست کر رہے ہیں۔ لاوروف نے کہا، اب میں کہہ سکتا ہوں، یہ کوئی راز نہیں ہے، ان ممالک کے سفیر وزارت خارجہ میں میرے نائب سے ملنے کو کہہ رہے ہیں، ہم ان سے ملیں گے اور ان کی بات سنیں گے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ یہ سفیر کیسے اور کیا کہیں گے، ان ممالک کے رہنماوں کی جانب سے روس کے بارے میں تضحیک آمیز باتیں کہنے اور بعض اوقات ذاتی تبصرے کرنے کے باوجود، کچھ تعمیری خیالات کا باعث بن سکتے ہیں۔
سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق روس یوکرین جنگ
2026 تک صورتحال اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں دونوں فریقوں کے لیے واضح فوجی فتح ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ یوکرین کے لیے مغربی فوجی امداد میں مسلسل رکاوٹیں اور یورپی ممالک کے اندر بڑھتی ہوئی جنگی تھکاوٹ یورپی رہنماوں کو فوجی حل کے بجائے سفارتی حل تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے بعد سے، نیٹو اور یورپی سلامتی کے لیے امریکہ کی وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کی امداد میں کٹوتی اور مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے لیے دباو¿ ڈالنے کے بعد خاص طور پر روس کی سرحد سے متصل یورپی ممالک، یہ سمجھ رہے ہیں کہ انہیں روس کے ساتھ براہ راست رابطے کے راستے کھولنے چاہیے۔
حالیہ مہینوں میں، کئی عالمی فورم یوکرین میں امن کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ صدر اسٹب کا بیان اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ روس اور پوتن کو میز پر براہ راست شامل کیے بغیر یورپ میں کوئی بھی پائیدار امن معاہدہ یا سیکیورٹی فریم ورک نہیں بنایا جا سکتا۔
روس کے ساتھ 1,340 کلومیٹر طویل سرحد رکھنے والی فن لینڈنے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی سرحدیں مکمل طور پر بند کر دی تھیں، لیکن روس کے ساتھ طویل عرصے تک مواصلات کی مکمل بندش برقرار رکھنا فن لینڈ کی اقتصادی اور زمینی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے، اس لیے عین ممکن ہے کہ صدرا سٹب یورپی یونین کی جانب سے مذاکرات کا آغاز کر کے تعطل کو توڑنے کی پہل کرنا چاہتے ہوں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی