
لاتور، 10 جون (ہ س)۔ نئے تعلیمی سال کا آغاز 15 جون سے ہونے جا رہا ہے۔ اگرچہ درسی کتابیں اسکولوں کی جانب سے فراہم کی جائیں گی، تاہم کاپیاں، قلم، کمپاس، بستے اور دیگر ضروری تعلیمی سامان والدین کو بازار سے خریدنا پڑتا ہے۔ اسی سلسلے میں بازاروں میں خریداری کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، لیکن اس سال مہنگائی نے والدین کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اسکولی سامان کی قیمتوں میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث عام اور متوسط طبقے کے خاندانوں کا مالی بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔اس سال بازار میں کاپیوں، قلموں اور بستوں کی قیمتوں میں براہ راست 15 فیصد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صرف پہلی سے چوتھی جماعت تک کے طلبہ کے بنیادی تعلیمی سامان کی خریداری پر ہی والدین کو کم از کم 3 ہزار سے 5 ہزار روپے خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے تعلیمی سامان میں منافع کے بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے متعدد نجی اسکولوں نے اپنے الگ فروختی مراکز بھی قائم کر لیے ہیں۔شکایت کی جا رہی ہے کہ بعض نجی اسکول اپنے طلبہ اور والدین کو بازار سے خریداری کا متبادل فراہم کرنے کے بجائے انہی مجاز اسٹالز سے سامان خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بازار کے مقابلے میں زیادہ قیمتوں پر دستیاب اس سامان کے باعث ایک طالب علم کی صرف کاپیوں، کتابوں اور یونیفارم پر ہی والدین کو 10 ہزار سے 15 ہزار روپے تک خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔بازار میں اس وقت کاپیوں اور کتابوں کے سیٹ کی قیمت 3 ہزار سے 5 ہزار روپے، اسکولی بستے 350 سے 1500 روپے، یونیفارم 1000 سے 1500 روپے اور دیگر تعلیمی اشیا 500 سے 1000 روپے کے درمیان فروخت ہو رہی ہیں۔ اس طرح ایک طالب علم پر اوسطاً 12 ہزار سے 15 ہزار روپے تک کا خرچ آ رہا ہے۔سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں بال بھارتی کی کتابیں انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں، جبکہ اس کے برعکس انگریزی میڈیم اسکولوں میں ’’اسمارٹ لرننگ‘‘ کے نام پر نجی ناشرین کی مہنگی کتابیں لازمی قرار دی جاتی ہیں۔ صرف پہلی سے چوتھی جماعت تک کے ایک کتابی سیٹ کی قیمت ہی 3 ہزار سے 4 ہزار روپے تک پہنچ رہی ہے۔ اس کے علاوہ معمول کی یونیفارم، اسپورٹس یونیفارم اور ہاؤس یونیفارم جیسی اضافی ضروریات نے بھی والدین کے مالی بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے