امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیغامات کے تبادلوں میں تیزی
. ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ اب معاہدہ ممکن ہے
واشنگٹن میں 06 مئی کو وائٹ ہاوس کے اوول آفس میں یو ایف سی فائٹرز ایلکس پریرا، ایلیا ٹوپوریا، جسٹن گیٹج اور سیرل گین سے ملاقات کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ میڈیا سے بات کرتے ہوئے۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی چین کے دورے پر ہیں۔ یہ دورہ مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران ہوا ہے۔ اس سفر نے تہران اور بیجنگ کے درمیان تزویراتی تعلقات کو نمایاں کیا ہے۔ فوٹو: تہران ٹائمز


واشنگٹن/بیجنگ، 07 مئی (ہ س)۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کے ساتھ ان کی بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ اب یہ مکمل طور پر ممکن ہے کہ ہم کوئی معاہدہ کر لیں۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تہران نے ابھی تک واشنگٹن کی تازہ تجویز پر کوئی باقاعدہ جواب نہیں دیا ہے، لیکن ثالث پاکستان کے ذریعے سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ اس دوران ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے امریکی فوج کے ’پروجیکٹ فریڈم‘ آپریشن کو روک دیا ہے۔ دوسری طرف، ایران کے وزیر خارجہ چین پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے اس معاہدے کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔

الجزیرہ، سی بی ایس نیوز اور تہران ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے بدھ کو اوول آفس میں ایک سوال پر کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے، لیکن معاہدہ ضرور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کو آمنے سامنے کی بات چیت کے لیے ایران بھیجنا ابھی جلد بازی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران جلد سے جلد معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ اگر امریکہ ابھی ایران کو چھوڑ دیتا ہے، تو اسے دوبارہ کھڑا ہونے میں 20 سال لگ جائیں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران تباہی کے دہانے پر ہے اور وہ ہار ماننے کو تیار ہے۔

ٹرمپ نے اسٹاک مارکیٹ کے اوپر جانے اور تیل کی قیمتوں کے نیچے آنے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کا جتنا اثر ایران پر پڑ رہا ہے، اتنا ہی معاشی اثر امریکہ میں بھی پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف، ایران کے اعلیٰ سفارت کار نے بدھ کو بیجنگ میں اپنے ہم منصب وانگ ای سمیت چین کے سینئر حکام سے ملاقات کی۔ وانگ نے چین کو ایران کا ایک قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر قرار دیا ہے۔ وانگ نے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور جنگ کی مذمت کی۔

چین کے وزیر خارجہ نے لڑائی کو فوری طور پر ختم کرنے کی اپیل کی اور تنازعہ کے دوبارہ شروع ہونے کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے خلیج فارس کے ممالک سے اپنے مستقبل کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینے کی درخواست کی اور اچھے تعلقات قائم کرنے کے لیے ایران اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان بات چیت کی حوصلہ افزائی کی۔ بیجنگ میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران-امریکہ مذاکرات میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں وانگ کو آگاہ کیا۔ عراقچی کا دورۂ چین صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیجنگ دورے سے ٹھیک ایک ہفتہ پہلے ہوا ہے۔ ٹرمپ 15-14 مئی کو چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیجنگ جانے والے ہیں۔ یہ ٹرمپ کی دوسری مدتِ کار کے دوران چین کا پہلا دورہ ہوگا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان کے ساتھ بدھ کو فون پر بات چیت بھی کی۔ انہوں نے خطے میں سیکورٹی اور استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ ریاض نے علاقائی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں امریکہ کی موجودگی ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande