
ناگپور، 7 مئی (ہ س)۔ ہندوستان میں ثقافتی اور سیاسی نقطہ نظر سے سال 2026کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مخالف نظریات کی حامل دو تنظیمیں - کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی/ایم) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) -دونوں نے اپنے 100 سال مکمل کر لئے ہیں اور 101 ویں سال میں داخل ہو چکی ہیں۔ اس پس منظر میں سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ،ونود دیش مکھ نے دونوں تنظیموں کے نظریاتی اور سیاسی سفر کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے ۔
اپنے قیام سے ہی شدید مخالفت کا سامنا کرنے والا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) آج ایک ہمہ گیر تنظیم بن چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں بی جے پی پہلی بار بنگال میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ دریں اثنا، ہندو مخالف موقف کے ساتھ اپنا صد سالہ سفر مکمل کرنے والا بائیں بازو اب کیرالہ میں اپنی شکست کی وجہ سے سیاسی زوال کے آخری مرحلے میں جاتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ گزشتہ 50 برسوں سے دونوں کا قریب سے مطالعہ کرنے والے ونود دیش مکھ نے اس کی وجوہات کا تجزیہ کیا ہے ۔
ہندوستان میں بائیں بازو کا سفر
دیشمکھ بتاتے ہیں کہ آر ایس ایس اور سی پی آئی ، دونوں کی نظریاتی بنیادیں 1920 کے آس پاس رکھی گئی تھیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد آنے والے روسی انقلاب سے متاثر ہو کر،ایم این رائے نے 1920 میں تاشقند، روس میں ہندوستانی کمیونسٹ نظریے کا آغاز کیا۔ اس کے بعد، 26 دسمبر 1925 کو، ایس وی گھاٹے، سریپد امرت ڈانگے، مظفر احمد اور ان کے ساتھیوں نے اترپردیش کے کانپور میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی بنیاد رکھی۔
آزادی کے بعد، 1957میں کیرالہ میں ای ایم ایس نمبودری پاد کی قیادت میں پہلی کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی ۔ اس کے بعد مغربی بنگال پر 1977 سے 2011 تک مسلسل 34 سال سی پی آئی (ایم) کی قیادت میں بائیں بازو کی حکومت رہی۔ تریپورہ میں بھی 1978 سے 1988 اور 1993 سے 2018 تک بائیں بازو کی حکومت رہی۔ تاہم اتنے بڑے ملک میں،100برس کے دوران بائیں بازو کا نظریہ تین ریاستوں سے آگے بڑھنے میں ناکام رہا۔
ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں ان کی حکمرانی کا خاتمہ کیا، تریپورہ میں انہیں بی جے پی کے ہاتھوں شکست ہوئی، اور اب کیرالہ میں ان کا آخری قلعہ پنارائی وجین حکومت کو جھٹکا لگنے سے کمزور ہو گیا ہے۔ مجموعی طور پریوم تاسیس کے 100برس تک پہنچتے پہنچتے کمیونسٹوں کا سیاسی اثر اور عوامی حمایت ، دونوں کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سنگھ کا عروج
کمیونسٹ پارٹی کی طرح، آر ایس ایس کی داغ بیل بھی تقریباً 1920 میں ڈالی گئی۔ ناگپور میں کانگریس کے اجلاس کے دوران، ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوار نے وردی والے سویم سیوکوں (رضاکاروں) کا استعمال کیا۔ اس کے بعد، 27 ستمبر، 1925 کو، انہوں نے ناگپور میں اپنی رہائش گاہ پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی بنیاد رکھی۔
دیشمکھ کے مطابق، سنگھ اور کمیونسٹوں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ سنگھ سماجی کام اور ثقافتی قوم پرستی کے لیے وقف ہے، جب کہ کمیونسٹ نظریہ حتمی طور پر سیاسی طاقت کے حصول تک محدود ہو جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سنگھ مسلسل ترقی کرتے ہوئے عالمی سطح تک پہنچ گیا ہے، جب کہ کمیونسٹ تحریک کمزور پڑ گئی ہے۔
اپنے آغاز سے ہی تین بار پابندیوں اور سخت سیاسی مخالفت کا سامنا کرنے کے باوجود، سنگھ نے چرےویتی-چریویتی (مسلسل آگے بڑھنے) کے اصول پر قائم رہتے ہوئے اپنا بے لوث کام جاری رکھا ہے۔ حالانکہ اس دوران سنگھ کو مہاتما گاندھی کے قتل کے الزام کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود سنگھ نے اپنی محب وطن شبیہ برقرار رکھی۔
ایمرجنسی کے دوران سنگھ کے رضاکاروں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جمہوریت کے تحفظ میں اپناتعاون دیا۔شری رام جنم بھومی تحریک کے ذریعے سنگھ نے ملک کے کونے کونے تک اپنی رسائی کو بڑھایا اور عوامی خدمت کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کیا۔
دیشمکھ کے مطابق، اس سے بی جے پی کو بھی فائدہ ہوا ہے، جو گزشتہ 12 برسوں سے مرکز میں برسراقتدار ہے اور 28 میں سے 21 ریاستوں پراس کی حکومت ہے۔ اسے سنگھ کے نظریے کی توسیع کے نتیجے میں دیکھا جا سکتا ہے۔
کامیابی اور ناکامی کے اسباب
آر ایس ایس کی کامیابی اور کمیونسٹوں کی ناکامی پر روشنی ڈالتے ہوئے، دیش مکھ کہتے ہیں کہ اس کے آغاز میں، ڈاکٹر ہیڈگیوار نے بھگوا پرچم کو اپنا گرو مان کر آر ایس ایس کو شخصیت پرستی سے دور کیا۔ انہوں نے تمام ذاتوں کو متحد کرنے اور مجموعی طور پر ہندو سماج کو متحد کرنے کا عہد بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مخالفت اور پروپیگنڈے کے باوجود لوگ آر ایس ایس کی طرف متوجہ ہوتے رہے اور آج اس کے صد سالہ سال میں یہ تنظیم مضبوط اور وسیع تر کھڑی ہے۔
اس کے برعکس، کارل مارکس، لینن، اسٹالن اور ماو¿ زی تنگ جیسے غیر ملکی مفکرین پر مبنی کمیونسٹ تحریک سماجی اور سیاسی زوال کی طرف بڑھ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ،اسی نظریے سے ابھرنے والے انتہا پسند عناصر بھی اپنے خاتمے کے قریب ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد