پائیدھونی سانحہ میں تربوز کے نمونوں سے چوہے مار زہر کی موجودگی کی تصدیق
ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کے بعد فرانزک رپورٹ نے موڑ بدل دیاممبئی ، 07 مئی (ہ س) ممبئی کے پائیدھونی علاقے میں ایک خاندان کے چار افراد کی پراسرار موت کے معاملے میں فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد تحقیقات نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پہلے
Probe Four Family Members Die Poisoning


ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کے بعد فرانزک رپورٹ نے موڑ بدل دیاممبئی ، 07 مئی (ہ س) ممبئی کے پائیدھونی علاقے میں ایک خاندان کے چار افراد کی پراسرار موت کے معاملے میں فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد تحقیقات نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پہلے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ تاربوزہ کھانے کے بعد زہر خورانی ہوئی، لیکن اب عدالتی طبی جانچ میں متوفیوں کے جسم اور پھل کے نمونوں میں چوہے مار دوا میں استعمال ہونے والے زہریلے مادے کے اجزا پائے گئے ہیں۔جانچ کے مطابق عبداللہ دوکاڈیا (45)، ان کی اہلیہ نسرین (35)، اور دونوں بیٹیاں زینب (13) اور عائشہ (16) نے اپنے گھر پر رشتہ داروں کے لیے کھانے کا اہتمام کیا تھا۔ دعوت میں مٹن پلاؤ پیش کیا گیا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق مہمانوں کے روانہ ہونے کے چند گھنٹے بعد رات تقریباً ایک بجے خاندان نے تربوزاہ کھایا۔ اس کے بعد صبح پانچ بجے تک چاروں افراد کو شدید قئے اور دست شروع ہو گئے اور چند گھنٹوں کے اندر ان کی جان چلی گئی۔پوسٹ مارٹم اور فرانزک معائنے کے دوران ڈاکٹروں کو ان کے جسم میں زنک فاسفائیڈ ملا، جو چوہے مار زہر میں استعمال کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ متوفیوں کے دماغ، دل اور آنتوں سمیت کئی اندرونی اعضا سبز رنگ میں تبدیل ہو چکے تھے، جو شدید زہر خورانی کی علامت تصور کیے جاتے ہیں۔اس کیس میں ایک اور حیران کن انکشاف یہ ہوا کہ عبداللہ دوکاڈیا کے جسم میں مورفین کے آثار بھی ملے ہیں۔ مورفین ایک طاقتور درد کش دوا ہے، جسے عموماً سخت طبی نگرانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تفتیشی حکام اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ دوا کسی طبی علاج کے دوران استعمال ہوئی تھی، یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ موجود ہے۔پولیس اب اس امکان کی بھی چھان بین کر رہی ہے کہ زہریلا مادہ تربوزہ میں حادثاتی طور پر شامل ہوا یا کسی نے جان بوجھ کر پھل میں داخل کیا۔ ادھر پولیس نے حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر کے ان تمام مہمانوں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں، جنہوں نے مٹن پلاؤ کھایا تھا لیکن وہ مکمل طور پر محفوظ رہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

---------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande