
ملزم کے پاس سے 500 روپے کے 280 نقلی نوٹ برآمد
بھوپال، 07 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کی کوہِ فضا پولیس نے نقلی نوٹوں کی اسمگلنگ کے معاملے میں مغربی بنگال کے رہائشی ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم کے پاس سے 500 روپے کے 280 نقلی نوٹ برآمد کیے گئے ہیں، جن کی کل مالیت 1.40 لاکھ روپے ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم کسی مخصوص نظریے یا تنظیم سے وابستہ ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر عدالت نے اسے سات دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔
ٹی آئی کے جی شکلا نے معاملے کا انکشاف کرتے ہوئے جمعرات کو بتایا کہ یہ کارروائی بدھ کی دوپہر سیفیہ کالج گراونڈ کے پاس کی گئی۔ مخبر سے اطلاع ملی تھی کہ ایک نوجوان نقلی نوٹ کھپانے کے لیے گاہک کی تلاش کر رہا ہے۔ ناکہ بندی کر کے پکڑے گئے ملزم کی شناخت 27 سالہ سیف الاسلام کے طور پر ہوئی ہے، جو فی الحال بھوپال کی گل مہر کالونی اریرا میں کرائے پر رہ رہا تھا۔ یہیں اس نے شادی بھی کر لی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں یہ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے کہ ملزم کے پاس سے ملنے والے نوٹوں کا کاغذ پاکستان اور نیپال کا ہے، جو اس معاملے کے بین الاقوامی تاروں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
پوچھ گچھ کے دوران ملزم سیف الاسلام نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ 10 دنوں میں تقریباً 60 ہزار روپے کے نقلی نوٹ بازار میں چلا چکا ہے۔ وہ مغربی بنگال سے اپنے ایک ساتھی کے ذریعے دو لاکھ روپے کی نقلی کرنسی محض 60 ہزار روپے میں لے کر آیا تھا۔ بھوپال میں وہ 300 روپے کے اصل نوٹوں کے بدلے 500 کا ایک نقلی نوٹ دینے کا کام کر رہا تھا۔ ملزم نے خود کو ایم بی بی ایس ڈاکٹر بتایا ہے اور ابتدائی طور پر اس کا کہنا ہے کہ بغیر محنت کے جلد امیر بننے کی چاہ میں وہ اس غیر قانونی دھندے میں شامل ہوا۔
معاملے کی سنگینی تب اور بڑھ گئی جب پولیس کو ملزم کے پاس سے ایک آئی فون اور پین ڈرائیو ملی۔ ملزم اپنے فون میں لندن کی 'پلس 44' سیریز کے مخصوص نمبر کا استعمال کر رہا تھا اور غیر ملکی نمبروں کے ذریعے ہی رابطے میں تھا۔ اس کے علاوہ، اس نے اعتراف کیا کہ وہ سائبر ٹھگوں کو فرضی بینک کھاتے فراہم کرنے کا کام بھی کرتا ہے۔ پولیس اب اس بات کی گہرائی سے چھان بین کر رہی ہے کہ ملزم کا نیٹ ورک کن کن ریاستوں اور ممالک تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا اصل مقصد کیا تھا؟
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن