
میسور، 07 مئی (ہ س)۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت کی رائے ہے کہ ایک مضبوط ملک کی تعمیر سماج میں ہم آہنگی، باہمی اعتماد اور خدمت کا جذبہ پیدا ہونے پر ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے جمعرات کو کرناٹک کے میسور میں ستور مٹھ کیمپس میں جے ایس ایس مہاودیاپیٹھ کے زیر اہتمام گولڈن جوبلی خصوصی لیکچر سیریز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماجی ہم آہنگی ہی ملک کی ترقی کی بنیادی بنیاد ہے۔ جب سماج تقسیم ہوتا ہے تو ملک کمزور ہوجاتا ہے اور جب سماج متحد ہوتا ہے تو ملک ناقابل تسخیر ہوجاتا ہے۔“
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس میں ہزاروں سال کی ثقافت، اقدار اور روایات ہیں۔ زبان، رسم و رواج اور روایات کے تنوع کے باوجود، ہندوستانی سماج کی متحد قوت اس کی ثقافت میں مضمر ہے۔ ہندوستان کی طاقت تنوع میں، اس کے اتحاد میں ہے۔سب کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ ہماری روایت ہے۔ ذات پات، طبقے، علاقے اور زبان کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو ختم کرنا ہوگا۔ ہر فرد کو یکساں احترام ملنا چاہیے۔ خدمت اور تعاون کا جذبہ معاشرے کو مضبوط کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندانی نظام ہندوستانی ثقافت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایک بہتر معاشرے کی تعمیر تب ممکن ہے جب خاندان میں اقدار، روایات اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔ نوجوانوں کو صرف روزگار کے لیے تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہیے بلکہ ملک اور معاشرے کے تئیں ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ترقی کو صرف اقتصادی ترقی سے نہیں ماپا جا سکتا۔ حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہے جب معاشرے میں اخلاق، نظم و ضبط اور بھائی چارہ کو پروان چڑھایا جائے۔
اس تقریب میں ستور مٹھ کے شری شیوارتری دیشیکیندر مہاسوامی جی موجود تھے۔ اس موقع پر سدگرو مدھوسودن سائی کی کتاب ”آتمنو موکشارتھم جگت ہتائے چا“ کا اجرا بھی کیا گیا۔ لیکچر پروگرام میں تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے متعدد معززین، طلبا، مختلف تنظیموں کے نمائندوں اور معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ہندوستھان سماچادر
---------------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد