
۔پاکستان میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کئے گئے، 11 ایئر فیلڈز تباہ اور 13 طیارے مار گرائے گئے
جے پور، 7 مئی (ہ س)۔ آپریشن سندورکی پہلی سالگرہ کے موقع پر، ہندوستانی فوج نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی کارروائی محض ایک فوجی کارروائی نہیں ہے، بلکہ قومی سلامتی کی نئی اسٹریٹجک پالیسی کا اشارہ ہے۔ فوج نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی ٹھکانہ محفوظ نہیں ہے اور آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ یہ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہے۔
جمعرات کو جے پور میں ساو¿تھ ویسٹرن کمانڈ میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ہندوستانی فوج، فضائیہ اور بحریہ کے سینئر افسران نے آپریشن سندور کی حکمت عملی، کامیابیوں اور اثرات کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ فوج نے اس آپریشن کو کئی دہائیوں میں پاکستان کی طرف سے اسپانسر شدہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی سب سے جامع اور مربوط فوجی کارروائی قرار دیا۔
کئی سینئر فوجی افسران بشمول ڈپٹی چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف (آپریشنز) لیفٹیننٹ جنرل زوبن اے من والا، ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی، ڈائریکٹر جنرل ایئر آپریشنز ایئر مارشل اودھیش کمار اور ڈائریکٹر جنرل نیول آپریشنز وائس ایڈمرل اے این پرمود سمیت کئی فوجی افسران پریس کانفرنس میںموجود تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے کہا کہ آپریشن سندور نے ثابت کر دیا کہ 'آتم نر بھر بھارت' صرف ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی فوجی طاقت کو کئی گنا بڑھانے والی حقیقی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہندوستانی فوج کے زیر استعمال 65 فیصد سے زیادہ دفاعی آلات ملک میں تیار کیے جاتے ہیں۔
راجیو گھئی نے بتایا کہ 7 مئی 2025 کو شروع ہونے والے آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی فوج نے دہشت گردوں کے سات اہم اہداف کو نشانہ بنایا اور ہندوستانی فضائیہ نے دو کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو کافی نقصان پہنچا اور 100 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لائن آف کنٹرول پر ہونے والی جھڑپوں میں 100 سے زائد پاکستانی فوجی بھی مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے اپنے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ سمجھتا تھا لیکن آپریشن سندور نے اس تصور کو مکمل طور پر خاک میں ملا دیا۔ دہشت گرد کیمپوں کی مسلسل نقل مکانی اور انہیں سرحد کے اندر پیچھے دھکیلنے کی کوششوں کے باوجود، ہندوستانی فوج کی پہنچ اور صلاحیتیں متاثر نہیں ہوئیں۔
پریس کانفرنس کے دوران راجیو گھئی نے معروف شاعر دشینت کمار کی سطروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”ہنگامہ کھڑا کرنا میرا مقصد نہیں ہے، میری کوشش ہے کہ یہ صورت بدلنی چاہیے“۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ راجیو گھئی نے کہا کہ ہندوستان نے اپنے واضح اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے کے بعد غیر ضروری طور پر جنگ کو طول نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں جاری جنگوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ طویل تنازعات کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ بھارت نے متوازن لیکن تیز رفتار کارروائی کے ذریعے پاکستان کی خطرے کی بھوک اور آمادگی دونوں کو متاثر کیا۔
ائیر مارشل اودھیش کمار نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ ”جینے اور جینے دو“ کے اصول پر یقین رکھتا ہے لیکن جب امن کی خواہش کو کمزوری سمجھ لیا جائے اور تحمل کو ناکامی سمجھ لیا جائے تو فیصلہ کن اقدام ضروری ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کا مقصد بالکل واضح ہے اور اس میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران پاکستان اورمقبوضہ کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی افواج نے مشترکہ طور پر انتہائی متوازن، درست اور موثر فوجی آپریشن کیا۔ ایئر مارشل نے کہا کہ جب 7 مئی 2025 کی صبح پہلی بار ہدف کو نشانہ بنایا گیا تو یہ ہندوستان کی اجتماعی طاقت اور عزم کا براہ راست پیغام تھا، جو دشمن کی سرزمین تک پہنچا۔
ایئر مارشل نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے دوران ہندوستانی فوجی یا شہری بنیادی ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے تمام حملوں کو مو¿ثر طریقے سے ناکام بنا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن میں پاکستانی دہشت گردوں کے 9 ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کیے گئے، 11 ہوائی اڈے تباہ کیے گئے اور 13 طیارے مار گرائے گئے، جن میں 300 کلومیٹر سے زیادہ کے فاصلے سے نشانہ بنانے والا ہوائی وارننگ طیارہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے تمام شواہد دنیا کے سامنے پیش کر دیے گئے ہیں۔ بھارتی فوج کی کارروائی محض جوابی کارروائی نہیں تھی بلکہ قومی اپنے دفاع کی ایک طاقتور مثال تھی۔
وائس ایڈمرل اے این پرمود نے بتایا کہ 6 اور 7 مئی کی رات کو، ہندوستانی بحریہ نے، فوج اور فضائیہ کے ساتھ مل کر، دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف درست حملہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحریہ کی پیشگی تعیناتی کے سبب پاکستان کی بحری اور فضائی یونٹوں کو دفاعی انداز اپنانے پر مجبور ہونا پڑا۔ زیادہ تر پاکستانی فوجی وسائل اپنی بندرگاہوں تک محدود تھے یا ساحلی پٹی کے ساتھ متحرک رہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے ہندوستان کی کسی بھی اشتعال انگیزی کا متوازن، سٹریٹجک اور فیصلہ کن طاقت کے استعمال سے جواب دینے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کی حمایت کرنے والے فوجی ڈھانچے کو بہت کم وقت میں مو¿ثر طریقے سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل زوبن اے من والا نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران ایئر ڈیفنس سسٹم انٹیگریٹڈ ایئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم (آئی اے سی سی ایس) اور آکاش تیر جیسے سسٹم کے ساتھ مربوط ہو گیا تاکہ فضائی سرگرمیوں کی جامع نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ اب اے آئی پر مبنی ڈیفنس سٹریٹیجک کمیونیکیشن ڈویژن قائم کرکے پرپیگنڈے اور جعلی معلومات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد