
بامبے ہائی کورٹ نے سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر کیس میں 21 پولیس افسران سمیت 22 ملزمین کو راحتخصوصی سی بی آئی عدالت کے 2018 کے فیصلے میں مداخلت سے انکارممبئی ، 07 مئی (ہ س) بامبے ہائی کورٹ نے گجرات کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر کیس میں سہراب الدین شیخ، ان کی اہلیہ کوثر بی اور ساتھی تُلسی رام پرجاپتی کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر سے متعلق اہم مقدمے میں خصوصی سی بی آئی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے 21 پولیس اہلکاروں سمیت تمام 22 ملزمین کی بریت کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے سہراب الدین شیخ کے بھائیوں رُباب الدین شیخ اور نیاب الدین شیخ کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کے ریکارڈ میں ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں جس کی بنا پر خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جا سکے۔
یہ معاملہ 2005 کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر سے جڑا ہوا ہے، جس میں سی بی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ سہراب الدین شیخ، ان کی اہلیہ کوثر بی اور ان کے ساتھی تُلسی رام پرجاپتی کو اغوا کرنے کے بعد قتل کیا گیا۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق 26 نومبر 2005 کو سہراب الدین شیخ کو احمد آباد کے قریب انکاؤنٹر میں مارا گیا تھا، جبکہ کوثر بی کو قتل کر کے ان کی لاش غائب کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں تُلسی رام پرجاپتی، جنہیں اس کیس کا اہم گواہ تصور کیا جاتا تھا، وہ بھی ایک مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں مارے گئے تھے۔
سی بی آئی نے اپنی تحقیقات میں گجرات، راجستھان اور آندھرا پردیش کے متعدد سینئر پولیس افسران پر مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کیے تھے۔ سپریم کورٹ نے بعد میں اس مقدمے کی سماعت ممبئی منتقل کر دی تھی، جہاں خصوصی سی بی آئی عدالت نے سال 2018 میں تمام 22 ملزمین کو ثبوت ناکافی ہونے کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔
358 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں خصوصی عدالت نے کہا تھا کہ استغاثہ ملزمین کے خلاف ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے سی بی آئی کی تحقیقات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ جانچ کا رخ بعض سیاسی رہنماؤں کو مقدمے میں پھنسانے کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی۔ عدالت کے مطابق استغاثہ کسی منظم سازش یا قتل میں ملزمین کے کردار کو شک سے بالاتر ہو کر ثابت نہیں کر سکا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف رُباب الدین شیخ اور نیاب الدین شیخ نے بامبے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ خصوصی عدالت نے متعدد اہم گواہوں کے بیانات اور اہم شواہد کو مناسب اہمیت نہیں دی۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مقدمے کی دوبارہ سماعت کرانے کی اپیل بھی کی تھی۔
سماعت کے دوران ملزمین کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ خصوصی عدالت نے تمام دستاویزات، شواہد اور گواہوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی فیصلہ سنایا تھا۔ درخواست گزاروں کی طرف سے یہ دلیل بھی دی گئی کہ اس کیس میں دفعہ 197 کے تحت کسی سرکاری منظوری کی ضرورت نہیں تھی، تاہم عدالت نے ان دلائل کو قبول نہیں کیا۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد بامبے ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی اور تمام 22 ملزمین کی بریت کو صحیح قرار دیا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے