
ریاض،06مئی(ہ س)۔
بین الاقوامی سطح پر انسانی بنیادوں پر ریلیف کا کام کرنے والے سب سے بڑے سعودی ادارے 'شاہ سلمان ریلیف' نے مختلف ملکوں میں پسماندہ رکھے گئے افراد کی مدد کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں۔ انہیں 'شاہ سلمان ریلیف' کی طرف سے خوراک اور ادویات کے علاوہ دیگر اشیاءکی فراہمی بھی کی گئی ہے۔ تازہ خدمتی سلسلے میں ترکیہ میں سماعت کی بحالی سے متعلق خدمات پیش کی گئی ہیں۔چار دنوں کے دوران شاہ سلمان ریلیف کی میڈیکل ٹیم نے 373 افراد کی سماعت کی بحالی کے لیے کام کیا اور انہیں آلہ ہائے سماعت لگا کر دیے۔ ان میں 69 وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دوسرے ملک سے ترکیہ میں نقل مکانی کر کے پہنچے ہیں تاکہ جنگ اور بمباری سے اپنی جانیں بچا سکیں۔
دریں اثناءاس امدادی ادارے نے یمن میں 2160 فوڈ پاسلز تقسیم کیے ہیں۔ تاکہ انتہائی نادار خاندانوں کو بھی کچھ ریلیف مل سکے۔ یہ نادار یمنی خاندان ابیان گورنریٹ میں آباد ہیں۔علاوہ ازیں سعودی ریلیف ادارے نے مالی کے ایک علاقے میں بھی 500 فوڈ پارسلز تقسیم کیے ہیں۔ خوارک کی یہ تقسیم نقل مکانی کر کے آنے والے افراد میں کی گئی ہے۔ ان میں عام ضرورت مندوں کے ساتھ کچھ معذور افراد بھی شامل ہیں۔
'شاہ سلمان ریلیف' نے سوڈان کے شہر خرطوم میں 800 فوڈ پارسلز تقسیم کیے ہیں۔ جس سے 5848 افراد کو فائدہ ہوا ہے۔ ادارے نے غزہ میں بھی 25000 افراد کو گرم اور تازہ کھانا دیا ہے۔ گرم کھانے کی یہ تقسیم جنوبی غزہ کے انتہائی جنگ زدہ علاقے میں کی گئی ہے۔اسی طرح بنگلہ دیش کے افلاس زدہ شہریوں میں خوراک تقسیم کی گئی ہے۔ یہ خوراک زیادہ تر کاکس بازار میں تقسیم کی گئی ہے۔ ان مستحق افراد میں بوڑھے، بیمار، یتیم بچے اور شیر خوار بھی شامل ہیں۔ ان کی تعداد مجموعی طور پر 5000 ہے۔'شاہ سلمان ریلیف' نے 2015 سے اب تک دنیا کے 113 مختلف ممالک میں 4367 امدادی منصوبے مکمل کیے ہیں۔ جن کی لاگت کا تخمینہ تقریبا ساڑھ آٹھ ارب ڈالر ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan