ڈیموکریٹ ارکان کا ٹرمپ انتظامیہ سے اسرائیلی جوہری پروگرام کو تسلیم کرنے کا مطالبہ
واشنگٹن،06مئی (ہ س)۔با خبر ذرائع کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان کے ایک گروپ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے غیر علانیہ جوہری پروگرام کو علانیہ طور پر تسلیم کرے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق
ڈیموکریٹ ارکان کا ٹرمپ انتظامیہ سے اسرائیلی جوہری پروگرام کو تسلیم کرنے کا مطالبہ


واشنگٹن،06مئی (ہ س)۔با خبر ذرائع کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان کے ایک گروپ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے غیر علانیہ جوہری پروگرام کو علانیہ طور پر تسلیم کرے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ قدم دہائیوں پر محیط اس امریکی پالیسی کو ختم کر دے گا جو خاموشی پر مبنی ہے، حالانکہ انٹیلی جنس اداروں کے لیے یہ پروگرام 1960 کی دہائی کے اواخر سے ایک کھلا راز ہے۔

وزیر خارجہ مارکو روبیو کے نام لکھے گئے ایک خط میں جس کی کاپی اخبار نے حاصل کی ہے، ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ خواکین کاسٹرو کی قیادت میں بیس سے زائد ارکان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور وسیع تر فوجی تصادم کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر واشنگٹن کا اسرائیلی جوہری پروگرام کو نظر انداز کرنا اب ’ناقابلِ دفاع‘ ہو چکا ہے۔ارکانِ پارلیمنٹ نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں غلط فہمی، کشیدگی اور حتیٰ کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خطرات محض مفروضہ نہیں رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری طاقت کے توازن، کسی بھی فریق کی جانب سے کشیدگی کے امکانات اور ان حالات سے نمٹنے کے لیے امریکی انتظامیہ کے منصوبوں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ہمیں یہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔اخبار نے امریکی انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ جوہری کشیدگی کے حوالے سے خدشات ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی کچھ عہدے داروں میں پائے جاتے ہیں، جن کا خیال ہے کہ اسرائیل کی ریڈ لائنز کو شاید ابھی پوری طرح سمجھا نہیں گیا۔

اسرائیل نے سرکاری طور پر جوہری ہتھیار رکھنے کا کبھی اعتراف نہیں کیا، حالانکہ اس کا پروگرام جو 1950 کی دہائی کے اواخر میں خفیہ طور پر شروع ہوا تھا، دنیا کے پراسرار ترین فوجی معاملات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل نے ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے کوئی باقاعدہ نظریہ بھی ظاہر نہیں کیا۔یہ خط ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے حوالے سے بدلتے ہوئے رویے کا ایک نیا اشارہ ہے، جو غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں شہری ہلاکتوں اور ایران کے خلاف جنگ کی حمایت میں واشنگٹن میں اسرائیل کی شدید سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔اسرائیلی جوہری پروگرام کے معروف مو¿رخ افنیر یوہین کا کہنا ہے کہ یہ خط نصف صدی سے قائم ایک ممنوعہ روایت کو توڑتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان سوالات کا عوامی سطح پر اٹھایا جانا اس سیاسی روایت سے انحراف ہے جس پر امریکہ میں دونوں جماعتوں کا اتفاق رہا ہے۔ کوہین کے مطابق خاموشی کی یہ پالیسی 1969 میں صدر رچرڈ نکسن اور اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا مائیر کے درمیان ہونے والے ایک غیر رسمی سمجھوتے سے شروع ہوئی تھی، جس کے تحت واشنگٹن نے اسرائیل کے جوہری ابہام کو قبول کیا اور اسے بین الاقوامی تفتیش سے بچانے کا عہد کیا۔انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکہ کے تعاون کے بغیر اسرائیل اس پالیسی کو برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔خط تیار کرنے والے ارکان کا خیال ہے کہ اس پالیسی کا تسلسل واشنگٹن کی ساکھ کو کمزور کرتا ہے، کیونکہ ایک طرف امریکہ ایران اور دیگر ممالک کے جوہری پروگراموں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف اسی خطے میں موجود اپنے پڑوسی ملک کے جوہری پروگرام کو تسلیم نہیں کرتا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande