جہاز رانی کی آزادی نہ دینے پرایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں متوقع
نیویارک،06مئی (ہ س)۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین مغربی سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ارکان منگل کے روز امریکہ اور بحرین کی حمایت یافتہ ایک قرارداد کے مسودے پر مذاکرات شروع کریں گے۔ اس قرارداد کا مقصد ایران پر م
جہاز رانی کی آزادی نہ دینے پرایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں متوقع


نیویارک،06مئی (ہ س)۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین مغربی سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ارکان منگل کے روز امریکہ اور بحرین کی حمایت یافتہ ایک قرارداد کے مسودے پر مذاکرات شروع کریں گے۔ اس قرارداد کا مقصد ایران پر ممکنہ پابندیاں عائد کرنا ہے ... اور اگر تہران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حملے اور دھمکیاں بند نہ کیں تو طاقت کے استعمال کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔پیر کے روز ہونے والی تازہ جھڑپوں نے اس اہم آبی گزرگاہ میں صورت حال کی سنگینی کو واضح کر دیا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کنٹرول کی جنگ جاری ہے۔ اس کشیدگی سے چار ہفتے قبل شروع ہونے والی نازک جنگ بندی اور باہمی بحری محاصرے کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حالیہ تصادم میں امریکہ نے چھ ایرانی چھوٹی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایرانی میزائلوں نے متحدہ عرب امارات میں ایک تیل کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ واشنگٹن کی جانب سے پرجیکٹ فریڈم نامی آپریشن کے آغاز کے بعد پیش آیا ہے، جس کا مقصد پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو راستہ فراہم کرنا ہے۔

سفارت کاروں کے مطابق یہ قرارداد ایران پر سفارتی دباو¿ ڈالنے اور جنگ کے بعد کے حالات کی منصوبہ بندی کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ واشنگٹن نے اتحادیوں کو بحری جہاز رانی کی آزادی کے اتحاد کے نام سے ایک نئے کثیر القومی بحری اتحاد کی تجویز بھی دی ہے، تاکہ مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کا ڈھانچہ قائم کیا جا سکے۔اگرچہ روس اور چین نے ماضی میں ایسی ہی ایک قرارداد کو روکا تھا، لیکن موجودہ مسودہ نسبتاً محتاط انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ اس میں براہ راست طاقت کے استعمال کے الفاظ سے گریز کیا گیا ہے، تاہم اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ہفتم کے تحت رکھا گیا ہے، جو سکیورٹی کونسل کو پابندیوں سے لے کر فوجی کارروائی تک کے اختیارات دیتا ہے۔

قرارداد کے مسودے میں ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکیوں اور بارودی سرنگیں بچھانے جیسے اقدامات کی مذمت کی گئی ہے۔ متن میں ان کارروائیوں کو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حملے فوری بند کرے اور انسانی ہمدردی کے تحت امدادی سامان کی ترسیل کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل 30 دن کے اندر ان اقدامات پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کریں گے۔ اگر ایران نے حکم نہ مانا تو سکیورٹی کونسل دوبارہ اجلاس بلا کر پابندیوں سمیت مزید اقدامات پر غور کرے گی۔ امریکہ کو امید ہے کہ 8 مئی تک مذاکرات مکمل کر کے آئندہ ہفتے کے اوائل میں ووٹنگ کرائی جا سکے گی، تاہم روس اور چین اب بھی ایک متبادل متن پر غور کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کے مندوب مائیک والٹز نے امید ظاہر کی ہے کہ اس محدود دائرہ کار والی تجویز کو کونسل میں مطلوبہ حمایت حاصل ہو جائے گی۔ دوسری جانب، سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ایک بحری رابطہ کمیٹی پر بھی کام ہو رہا ہے، جو امریکہ کی قیادت میں فرانسیسی اور برطانوی مشن کے ساتھ مل کر کام کرے گی جس میں تقریباً 30 ممالک شامل ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد تنازع کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ ہم آہنگی سے محفوظ بحری گزرگاہ کی بنیاد رکھنا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande