امریکا اور ایران مذاکرات تعطل کا شکار، چین کی ثالثی کی پیشکش
بیجنگ،06مئی (ہ س)۔امریکا اور ایران کے درمیان بحران بدستور جوں کا توں برقرار ہے۔ بدھ کے روز مختلف بیانات نے صورتحال کو مزید غیر واضح کر دیا ہے، تاہم بعض اشارے اس بات کی طرف بھی ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ا
امریکا اور ایران مذاکرات تعطل کا شکار، چین کی ثالثی کی پیشکش


بیجنگ،06مئی (ہ س)۔امریکا اور ایران کے درمیان بحران بدستور جوں کا توں برقرار ہے۔ بدھ کے روز مختلف بیانات نے صورتحال کو مزید غیر واضح کر دیا ہے، تاہم بعض اشارے اس بات کی طرف بھی ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان بڑھ رہا ہے۔اسی دوران چین نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن مذاکرات شروع کرانے میں تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔اب تک سفارتی کوششیں اس تنازع کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان صرف ایک بار براہِ راست مذاکرات کا دور ہوا ہے، جبکہ مزید ملاقاتوں کی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔تازہ ترین پیش رفت کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں صرف ایک منصفانہ اور جامع معاہدے کو قبول کرے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عمل میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق عراقچی نے بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ ایران اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے پوری کوشش کرے گا اور صرف ایسے معاہدے کو قبول کرے گا ،جو منصفانہ اور جامع ہو۔

دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات شروع کرانے میں تعاون کرنے کے لیے چین کی آمادگی کا اظہار کیا ہے، جیسا کہ چینی سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے۔چینی وزیر خارجہ نے بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ چین امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز اور ان کو آگے بڑھانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب عباس عراقچی نے براہِ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پیشکش پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی کے لیے امریکی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کا ذکر کیا تھا، تاکہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کی کوششوں کو فروغ دیا جا سکے۔یہ آبنائے 28 فروری سے جاری تنازع کے بعد عملاً بند سمجھی جا رہی ہے، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے تھے۔اس صورتحال نے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کو متاثر کیا ہے اور عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ دونوں فریقین نے باہمی طور پر اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اگرچہ موجودہ صورتحال برقرار رہے گی، تاہم آزادی منصوبہ کو مختصر مدت کے لیے معطل کیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا معاہدہ مکمل اور دستخط کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پر کنٹرول کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ایران نے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا ہے اور اس نے بارودی سرنگیں بچھانے، ڈرونز، میزائلوں اور تیز رفتار کشتیوں کی تعیناتی کی دھمکی دی ہے۔جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں عائد کی ہیں اور آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے حفاظتی اسکواڈ فراہم کیا ہے۔امریکی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایران کی کئی چھوٹی کشتیوں کے ساتھ ساتھ کروز میزائل اور ڈرونز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔اس کے باوجود چار ہفتے قبل طے پانے والی کمزور جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے۔اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس کا دائرہ لبنان اور دیگر عرب ممالک تک پھیل گیا ہے، جس نے عالمی منڈیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور سخت بیانات کے باوجود تہران امن چاہتا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب ''بڑی پیش رفت ''ہو رہی ہے۔یہ تنازع امریکی صدر ٹرمپ کی حکومت پر بھی دباو¿ ڈال رہا ہے، خاص طور پر آئندہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے، کیونکہ مہنگے پٹرول کی قیمتیں ووٹروں کی زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا مقصد ایران کی جانب سے قریب الوقوع خطرات کو ختم کرنا ہے، جن میں اس کا جوہری اور میزائل پروگرام اور حماس و حزب اللہ کی حمایت شامل ہے۔دوسری جانب ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی اور افزودگی کا حق حاصل ہے، کیونکہ وہ جوہری عدم پھیلاو¿ کے معاہدے کا رکن ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande