
واشنگٹن،06مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کو لے جانے کے لیے شروع کی گئی امریکی فوجی کارروائی کو صرف ایک دن بعد ہی عارضی طور پر معطل کر رہے ہیں، تاکہ ایران کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے۔یہ آپریشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ پیر کے روز شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد ان بحری جہازوں کی مدد کرنا تھا، جو ایران کی جانب سے بند کیے گئے آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘پر لکھا کہ پروجیکٹ فریڈم کو کچھ وقت کے لیے معطل کیا جا رہا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا کسی حتمی معاہدے کو مکمل اور دستخط کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی۔ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست، ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں حاصل ہونے والی بڑی کامیابیوں اور ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیاں ختم کر دی ہیں۔انہوں نے وائٹ ہاو¿س میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’آپریشن غصہِ شدید‘ ختم کر دیا گیا ہے اور اب نئی حکمت عملی کے تحت صرف دفاعی مرحلہ جاری ہے، جسے صدر ٹرمپ نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا ہے۔
روبیو نے کہا کہ اس آپریشن کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری عملے کی مدد کرنا ہے۔ان کے مطابق اس تنازع کے باعث کم از کم 10 سویلین ملاح ہلاک ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ملاح تنہا، خوراک سے محروم اور خطرے میں ہیں۔روبیو نے مزید کہا کہ امریکہ اس اسٹریٹجک راستے میں آزادیِ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی افواج کی تعیناتی جاری رکھے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ پہل کرتے ہوئے فائرنگ نہیں کرے گا، تاہم اگر امریکی فورسز پر حملہ کیا گیا تو وہ بھرپور اور مہلک جواب دیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan