ہرمز سے جہازوں کو نکالنے کی امریکی مہم کو جھٹکہ ، ٹرمپ نے کہا- بحری ناکہ بندی جاری رہے گی
واشنگٹن، 06 مئی (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو فی الحال روکنے کا اعلان کیا۔ یہ مشن آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے کے لیے تھا۔ ٹرمپ نے پاکستان اور دیگر ممالک سے ملنے والی درخواستوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ف
پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر ہفتہ کو صحافیوں سے بات چیت کرتے صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


امریکہ نے روکی مشن فریڈم


واشنگٹن، 06 مئی (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو فی الحال روکنے کا اعلان کیا۔ یہ مشن آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے کے لیے تھا۔ ٹرمپ نے پاکستان اور دیگر ممالک سے ملنے والی درخواستوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فیصلہ لیا۔ تاہم، ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو محفوظ باہر نکالنے کے لیے شروع کیے گئے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو کچھ وقت کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پہلے کی طرح جاری رہے گی۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر یہ معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر اور ایران کے خلاف چلائی گئی مہم میں ہماری فوج کو ملی زبردست کامیابی کو دیکھتے ہوئے-ساتھ ہی اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی سمت میں کافی پیش رفت ہوئی ہے-ہم نے باہمی رضامندی سے یہ طے کیا ہے کہ، ’پروجیکٹ فریڈم‘ (آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت) کو کچھ وقت کے لیے روک دیا جائے گا۔ تاہم ناکہ بندی پوری طرح سے نافذ رہے گی۔ ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا وہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر پاتا ہے اور اس پر دستخط ہو پاتے ہیں یا نہیں۔‘‘

ٹرمپ نے اتوار کو یہ کہتے ہوئے اس پروجیکٹ کا اعلان کیا تھا کہ پوری دنیا کے ممالک نے اپنے جہازوں کو محفوظ باہر نکالنے کے لیے امریکہ سے مدد مانگی تھی۔ اس کے بعد پیر کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ آپریشن شروع کیا تھا۔

خاص بات یہ ہے کہ امریکہ اس آپریشن کے تحت پیر کو 2 اور منگل کو صرف 1 جہاز محفوظ نکال سکا تھا۔ جبکہ ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل تصادم شروع ہونے سے پہلے ہر دن ہرمز سے اوسطاً 125 جہاز گزرتے تھے۔ امریکہ کی اس مہم سے ناراض ایران نے وارننگ دی تھی کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز اس راستے سے نہیں گزر سکتا۔ اس کے بعد ایران نے ہرمز میں جنوبی کوریا کے ایک جہاز پر حملہ کیا۔ ساتھ ہی یو اے ای پر میزائل حملے کیے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande