تیر اندازی ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے میں بھارت کی مایوس کن کارکردگی، مردوں اور خواتین کی ٹیمیں تمغوں سے محروم
شنگھائی، 6 مئی (ہ س)۔ ہندوستان کی مرد اور خواتین کی کمپاو¿نڈ ٹیمیں تیر اندازی ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے میں توقعات پر پورا نہیں اتر سکیں۔ مضبوط دعویدار سمجھی جانے والی دونوں ٹیموں نے اہم لمحات میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سب سے بڑا دھچکا خوات
تیر اندازی ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے میں بھارت کی مایوس کن کارکردگی، مردوں اور خواتین کی ٹیمیں تمغوں سے محروم


شنگھائی، 6 مئی (ہ س)۔

ہندوستان کی مرد اور خواتین کی کمپاو¿نڈ ٹیمیں تیر اندازی ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے میں توقعات پر پورا نہیں اتر سکیں۔ مضبوط دعویدار سمجھی جانے والی دونوں ٹیموں نے اہم لمحات میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

سب سے بڑا دھچکا خواتین کی ٹیم کو لگا جس نے گزشتہ ماہ میکسیکو میں منعقدہ پہلے مرحلے میں ہندوستان کو واحد گولڈ میڈل جیتا تھا۔ جیوتی سریکھا وینم، پرگتی، اور ادیتی سوامی کی تینوں کوارٹر فائنل میں ترکی سے 233-227 سے شکست کے بعد باہر ہو گئیں۔

ہندوستانی خواتین کی ٹیم ترکی کی ہزل برون، ڈیفنے چاکماک اور ایمن رابعہ اوگز کی مستقل مزاجی کا مقابلہ نہیں کر سکی جنہوں نے دوسرے اینڈ سے برتری حاصل کی اور میچ پر کنٹرول برقرار رکھا۔

مردوں کی ٹیم نے سیمی فائنل میں پہنچ کر امیدیں بڑھا دیں، لیکن وہاں بھی دباو¿ میں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ اوجس دیوتالے، ساحل جادھو، اور کشال دلال کی ٹیم چین کے خلاف شوٹ آف میں کانسی کے تمغے کا مقابلہ ہار گئی۔

کانسی کے تمغے کے میچ میں اسکور 234-234 سے برابر رہا۔ شوٹ آف میں دونوں ٹیموں نے تین تین درست نشانے لگائے، لیکن چین کے دو تیر مرکز کے قریب تھے، جب کہ بھارت کا صرف ایک تیر مرکز کے قریب تھا، جس سے چین کو فتح حاصل ہوئی۔

ہندوستان نے میچ کے وسط میں 118-117 کی برتری حاصل کی، لیکن چین نے واپسی کی اور تیسرے اینڈ میں اسکور برابر کردیا۔ دونوں ٹیموں نے فائنل اینڈ میں بھی 58-58 کا سکور کیا، لیکن بھارتی ٹیم دباو¿ میں آ کر اہم پوائنٹس سے محروم ہو گئی۔

سیمی فائنل میں ہندوستان کو امریکہ کے خلاف 234-235 سے قریبی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے تین سروں میں برتری برقرار رکھنے کے باوجود ہندوستانی ٹیم آخری مرحلے میں پیچھے رہ گئی۔

ان لگاتار شکستوں نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ ہندوستانی ٹیم اہم لمحات میں دباو¿ کو سنبھالنے کے لیے جدوجہد کرتی ہے، جو کہ آئندہ ایشین گیمز سے قبل تشویش کا باعث ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande