سبریمالا کیس: سپریم کورٹ نے 1962 کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے طریقے پر سوال اٹھایا
نئی دہلی، 06 مئی (ہ س)۔ سبریمالا مندر معاملے کی سماعت کے 12 ویں دن بدھ کے روز سپریم کورٹ نے اس طریقے پر سوال اٹھایا جس میں اصلاح پسندوں کے ایک گروپ نے 1962 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں داو¿دی بوہرہ کمیونٹی میں رائج اخراج کے رواج
SC-SABRIMALA-HEARING-1962-DECISION


نئی دہلی، 06 مئی (ہ س)۔ سبریمالا مندر معاملے کی سماعت کے 12 ویں دن بدھ کے روز سپریم کورٹ نے اس طریقے پر سوال اٹھایا جس میں اصلاح پسندوں کے ایک گروپ نے 1962 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں داو¿دی بوہرہ کمیونٹی میں رائج اخراج کے رواج کو برقرار رکھا گیا تھا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں نو رکنی آئینی بنچ نے کہا کہ اس فیصلے پر نظرثانی کے لیے نظرثانی درخواست یا کیوریٹیو پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے۔ آرٹیکل 32 کے تحت دائر درخواست قانون کے مطابق نہیں ہے۔

سماعت کے دوران، جسٹس بی وی ناگارتنا نے کہا کہ5 مئی کو، ہم نے انڈین ینگ لائرز ایسوسی ایشن سے پوچھا کہ ان کی عرضی پر کیوں سماعت کی جائے۔ آج، ہم آپ سے یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ آرٹیکل 32 کے تحت اس درخواست کی سماعت کیوں کی جائے۔ آج سنٹرل بورڈ آف داو¿دی بوہرہ کمیونٹی کی جانب سے سینئر وکیل راجو رام چندرن پیش ہوئے۔

سینٹرل بورڈ آف داو¿دی بوہرہ کمیونٹی ایک اصلاح پسند گروپ ہے اوراس میں شامل ایک کارکن کے والد اصغر علی انجینئر کو بوہرہ کمیونٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ راجو رام چندرن نے دلیل دی کہ بائیکاٹ کرنا انسانی وقار کی خلاف ورزی ہے۔تب جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ ان کے مو¿کلوں نے آرٹیکل 32 کے تحت درخواست دائر کی تھی ۔ عدالت نے کہا کہ 1962 کے فیصلے کے خلاف نظرثانی یا کیوریٹیو پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے، لیکن آرٹیکل 32 کے تحت نہیں۔ تب رام چندرن نے کہا کہ ان کے مو¿کلوں کی طرف سے آرٹیکل 32 کے تحت دائر کی گئی درخواست قانونی طور پر دیگر درخواستوں کے مقابلے میں زیادہ درست تھی۔

حالیہ5 مئی کو عدالت نے درخواست گزار، انڈین ینگ لائرز ایسوسی ایشن کی سرزنشن کرتے ہوئے اس کی 2006 کی درخواست کو قانون کا غلط استعمال قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 28 ستمبر 2018 کو 4-1 کی اکثریت سے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے کہا تھاکہ خواتین کے ساتھ طویل عرصے سے امتیازی سلوک ہوتا رہا۔ عورتیں مردوں سے کمتر نہیں ہیں۔ ایک طرف ہم خواتین کو دیوی کی طرح سمجھتے ہیں تو دوسری طرف ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ حیاتیاتی اور جسمانی وجوہات کی بنا پر خواتین کے مذہبی عقیدے کی آزادی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande