
واشنگٹن،06مئی (ہ س)۔امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے ایران امریکی افواج پر 10 سے زائد حملے کر چکا ہے۔واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈین کین نے کہا کہ 8 اپریل سنہ 2026ءکو ہونے والی جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے ایران نے تجارتی جہازوں پر بھی نو بار فائرنگ کی اور مال بردار کنٹینرز والے دو بحری جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
ڈین کین نے ان واقعات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے فی الحال اس سطح سے نیچے ہیں جہاں بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز ناگزیر ہو جائے۔امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی افسر نے اشارہ دیا کہ صرف گذشتہ پیر کو ایران نے عمان پر ایک اور متحدہ عرب امارات پر تین حملے کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے لیے کوشاں امریکی افواج کے خلاف کروز میزائل، ڈرونز اور تیز رفتار کشتیوں کا استعمال کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حملہ آور ہیلی کاپٹروں نے ان حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا، گذشتہ دنوں کے مقابلے میں قدرے پرسکون دکھائی دیتا ہے۔ڈین کین کا کہنا تھا کہ خطے میں ایرانی حملوں کی وجہ سے خلیج میں 1550 سے زائد تجارتی جہازوں پر سوار لگ بھگ 22500 ملاح پھنس کر رہ گئے ہیں۔آبنائے ہرمز جو خلیج کو کھلے سمندر سے ملاتی ہے، عالمی تیل کی تجارت کے لیے ایک اہم ترین شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جنگ کے دوران اس کی عملی بندش نے دنیا بھر میں توانائی کی منڈیوں کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔
ڈین کین نے بتایا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمان کے قریب ایک وسیع سکیورٹی زون قائم کر دیا ہے۔ امریکی بری، بحری اور فضائی یونٹس اس علاقے کی حفاظت کر رہے ہیں تاکہ تجارتی جہاز رانی پر مزید ایرانی حملوں کا راستہ روکا جا سکے۔اسی پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگزیتھ نے ان کوششوں کو آبنائے ہرمز کے اوپر سرخ، سفید اور نیلے رنگ کی ایک مضبوط ڈھال قرار دیا۔
گذشتہ پیر کو محصور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث تناو¿ میں شدید اضافہ ہوا جس نے اس نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ کشیدگی امریکہ کے نئے فوجی اقدام کے بعد بڑھی ہے جسے پروجیکٹ فریڈم کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد ایرانی حملوں کے خطرے کے باوجود پھنسے ہوئے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارنے میں مدد دینا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan