
احمد آباد، 6 مئی (ہ س)۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس سے جڑے ایک سازش کیس کے سلسلے میں احمد آباد کی ایک خصوصی عدالت میں تین افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزمین زہریلے کیمیکل کا استعمال کرکے عوامی مقامات پر بڑی تعداد میں لوگوں کو نشانہ بنانے کی سازش کررہے تھے۔
اس کیس میں مرکزی ملزم حیدرآباد کے رہنے والے ڈاکٹر سید احمد محی الدین ہیں جبکہ اتر پردیش کے رہنے والے آزاد اور محمد سہیل پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ تینوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، تعزیرات ہند اور اسلحہ ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
تفتیشی ادارے کے مطابق ملزمین بیرون ملک مقیم دہشت گردوں سے رابطے میں تھے اور ان کی ہدایت پر ملک میں دہشت پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ وہ نوجوانوں کو بنیاد پرست بنا رہے تھے اور انہیں اپنی تنظیم میں بھرتی کر رہے تھے۔
تفتیش میں انکشاف ہوا کہ مرکزی ملزم ڈاکٹر محی الدین نے زہریلا مادہ تیار کرنے کے لیے اپنے گھر میں خفیہ لیبارٹری بنا رکھی تھی۔ وہ ارنڈ کے بیجوں سے ایک انتہائی مہلک زہر تیار کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے دہشت گردی کے ایک بڑے حملے میں استعمال کیا جانا تھا۔
یہ معاملہ سب سے پہلے گجرات اے ٹی ایس نے درج کیا تھا۔ نومبر 2025 میں اے ٹی ایس نے ڈاکٹر محی الدین کو ایک ٹول پلازہ سے گرفتار کیا۔ اس کی گاڑی سے غیر قانونی اسلحہ، کیسٹر آئل اور دیگر مشکوک مواد برآمد ہوا۔ اس کے بعد دیگر دو ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ دونوں شریک ملزمان نے راجستھان کے ہنومان گڑھ میں ایک خفیہ مقام سے رقم اور غیر قانونی ہتھیار حاصل کیے تھے، جنہیں بعد میں گجرات کے چھترال میں مرکزی ملزم کو پہنچایا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ