بھارت میں سرگرم باغی گروپوں سے منسلک سات غیر ملکی شہریوں کی عدالتی تحویل میں 30 دن کی توسیع
نئی دہلی، 6 مئی (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے ہندوستان آکر شمال مشرق کے نسلی گروہوں کو تربیت دینے کے الزام میں سات غیر ملکی شہریوں کی عدالتی تحویل میں 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج پرشانت شرما نے عدالتی حراست میں توسیع کا حکم جار
DL-LC-7Foreign-Nationals-Custody


نئی دہلی، 6 مئی (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے ہندوستان آکر شمال مشرق کے نسلی گروہوں کو تربیت دینے کے الزام میں سات غیر ملکی شہریوں کی عدالتی تحویل میں 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج پرشانت شرما نے عدالتی حراست میں توسیع کا حکم جاری کیا۔

عدالت نے 27 مارچ کو ان غیر ملکی شہریوں کو 6 اپریل تک این آئی اے کی تحویل میں دے دیا تھا۔ ان کی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی حراست بدھ کو ختم ہو رہی تھی، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ آج کی پیشی کے دوران عدالت نے یوکرین اور امریکی سفارتخانوں کے اہلکاروں کو کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں دی۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ حساس ہے اور قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

عدالت نے 17 مارچ کوان غیر ملکی شہریوں کو 27 مارچ تک این آئی اے کی تحویل میں دیا تھا۔ عدالت نے ذکر کیا کہ یہ غیر ملکی شہری غیر قانونی طور پر میانمار میں داخل ہوئے اور میزورم کے محفوظ علاقوں میں نسلی گروہوں سے رابطہ قائم کیا۔ ملزمان پر غیر قانونی ہتھیاروں کی فراہمی، نسلی گروہوں کو تربیت دینے اور ڈرون چلانے میں مدد کرنے کا الزام ہے۔ ان سات غیر ملکی شہریوں میں چھ یوکرینی شہری اور ایک امریکی شہری شامل ہے۔

این آئی اے کے مطابق یہ غیر ملکی شہری ویزے پر ہندوستان آئے تھے اور پھر میزورم میں داخل ہوئے جو ایک محفوظ علاقہ ہے۔ این آئی اے کے مطابق ان غیر ملکی شہریوں کو میانمار میں تربیت دی گئی تھی اور پھر وہ نسلی جنگی گروپوں کو تربیت دے رہے تھے۔ ان گروپوں کا تعلق بھارت میں سرگرم باغی گروپوں سے ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ وہ یورپ سے ڈرون کی ایک بڑی کھیپ لائے تھے۔ این آئی اے نے ان کے خلاف یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande