
میدنی پور، 6 مئی (ہ س)۔ مغربی میدنی پور ضلع میں اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت کے بعد منگل کی صبح سے دیر رات تک سیاسی سرگرمیاں اور جشن کا ماحول بنا رہا۔ مختلف علاقوں میں نو منتخب ارکان اسمبلی کے استقبال، پوجا ارچنا، انتظامی افسران سے ملاقات اور فتح کے جشن کے کئی پروگرام منعقد کیے گئے۔
نارائن گڑھ اسمبلی حلقہ سے جیت درج کرنے کے بعد رکن اسمبلی رما پرساد گری منگل کی صبح بیلدا علاقے کے دیولی شیو مندر پہنچے۔ یہاں انہوں نے پارٹی کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ پوجا ارچنا کی اور علاقے کی عوام کے لیے آشیرواد مانگا۔ پوجا کے بعد انہوں نے مقامی لوگوں سے ملاقات کر کے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ جیت نارائن گڑھ کے لوگوں کے بھروسے اور تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے علاقے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے کام کرنے کا یقین بھی دلایا۔
اسی دن کیشیاڑی اسمبلی حلقہ سے منتخب رکن اسمبلی بھدرا ہیمرم نے بھی الگ انداز میں اپنی سرگرمی جاری رکھی۔ شام کو وہ دانتن تھانے پہنچے اور انتخابی عمل پرامن طریقے سے مکمل کرانے کے لیے انتظامی افسران کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے تبدیلی اور بہتر انتظامیہ کے لیے بی جے پی پر بھروسہ ظاہر کیا ہے اور پارٹی آنے والے وقت میں عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے گی۔
منگل کی شام اور رات کے وقت ضلع کے کئی علاقوں میں جشن کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ بیلدا کالج سمیت مختلف تعلیمی اداروں میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے ارکان نے طلبہ اور اساتذہ کو مٹھائی کھلا کر خوشی منائی۔ وہیں نارائن گڑھ جنرل ڈگری کالج کے سامنے اے بی وی پی کارکنوں نے ابیر کھیل کر اور نعرے لگا کر جیت کا جشن منایا۔
دن بھر جاری رہنے والی سیاسی سرگرمیوں کے درمیان نارائن گڑھ میں کشیدگی کا ایک واقعہ بھی سامنے آیا۔ الزام ہے کہ مقامی ترنمول لیڈر رنجیت بوس کے نجی دفتر میں کچھ لوگوں نے توڑ پھوڑ کی۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ نوکری دلانے کے نام پر ان سے پیسے لیے گئے تھے۔ رات کو علاقے میں پولیس پہنچی اور صورتحال کو قابو میں کیا، معاملے کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
ادھر میدنی پور شہر میں بھی دیر شام تک جشن کا ماحول بنا رہا۔ یہاں بی جے پی کارکنوں اور حامیوں نے رکن اسمبلی شنکر گچھائت کو مٹھائی کھلا کر مبارکباد دی اور جیت کی خوشی شیئر کی۔
کھڑگپور صدر اسمبلی حلقہ میں بھی بی جے پی کارکنوں نے جیت کی خوشی میں مختلف مندروں میں پوجا ارچنا کی۔ کئی مقامات پر کتھا کیرتن اور ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا گیا۔ کارکنوں نے مندروں میں جا کر بھگوان کے حضور ماتھا ٹیک کر علاقے کے امن اور ترقی کی دعا کی۔ حالانکہ اس دوران کچھ جگہوں سے چھوٹی موٹی وارداتوں کی خبر بھی سامنے آئی۔ الزام ہے کہ بی جے پی کارکنوں کے ذریعے ترنمول کانگریس کے کچھ پارٹی دفاتر میں توڑ پھوڑ اور دخل دینے کی کوشش کی گئی۔
کھڑگپور کی چیئرپرسن کلیانی گھوش نے ہندستھان سماچار کو بتایا کہ دیر رات وارڈ نمبر 7 میں ایک پارٹی آفس میں توڑ پھوڑ اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کا واقعہ سامنے آیا، جس سے علاقے میں کچھ وقت کے لیے کشیدگی کا ماحول بن گیا۔ پولیس پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صبح ان کے وارڈ کے ایک دوسرے پارٹی آفس میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی اور وہاں لگے بینر کو جلا دیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن