
نئی دہلی، 6 مئی (ہ س)۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے سائبر سلیوری کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے، جس نے ہندوستانی شہریوں کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں سائبر کرائم سنڈیکیٹس کے چنگل میں پھنسایا ہے۔ ایجنسی نے ملک بھر میں نو مقامات پر چھاپے مارے اور لکھنو¿ میں ایک شخص کو گرفتار کیا۔
سی بی آئی نے کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس نیٹ ورک نے ہندوستانی نوجوانوں کو زیادہ معاوضہ دینے والی نوکریوں کا لالچ دیا اور انہیں میانمار اور کمبوڈیا کے مقامات پر بھیج دیا۔ وہاں، انہیں سائبر سلیوری(غلامی) کے نام نہاد کیمپوں میں رکھا گیا، جہاں انہیں سائبر فراڈ پر مجبور کیا گیا۔ متاثرین کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے، انہیں جسمانی اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ بہت سے معاملات میں، متاثرین کو ان کے اہل خانہ سے تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی رہا کیا جاتا تھا۔
ایجنسی نے ممبئی، دہلی، لکھنو¿، کاشی پور، اور اتر پردیش کے گونڈا اور سہارنپور اضلاع میں تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران الیکٹرانک آلات اور مجرمانہ ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات میں نیٹ ورک میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے کریپٹو کرنسی کے لین دین کا بھی تجزیہ کیا گیا۔
لکھنو¿ میں گرفتار کئے گئے مشتبہ شخص پر الزام ہے کہ اس نے ہندوستانی شہریوں کو ان کیمپوں تک پہنچانے میں مدد کی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیٹ ورک سے وابستہ ایجنٹوں کو غیر ملکی مقامات سے ہندوستانی شہریوں کو سپلائی کرنے کے لیے ادائیگی کی گئی تھی۔ ایجنسی نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد