بہار کابینہ کی میٹنگ نے سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور عوامی بہبود پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے 20 تجاویز کو منظوری دی
- سیتامڑھی میں بننے والے میڈیکل کالج اور اسپتال کا نام’ماں سیتا‘ کے نام پر رکھنے کی منظوریپٹنہ، 6 مئی (ہ س)۔ بہار کے وزیر اعلی سمراٹ چودھری کی صدارت میں بدھ کی شام ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں کل 20 تجاویز کو منظوری دی گئی۔ ان فیصلوں میں ریاست کی صنعت
بہار کابینہ کی میٹنگ نے سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور عوامی بہبود پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے 20 تجاویز کو منظوری دی


- سیتامڑھی میں بننے والے میڈیکل کالج اور اسپتال کا نام’ماں سیتا‘ کے نام پر رکھنے کی منظوریپٹنہ، 6 مئی (ہ س)۔ بہار کے وزیر اعلی سمراٹ چودھری کی صدارت میں بدھ کی شام ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں کل 20 تجاویز کو منظوری دی گئی۔ ان فیصلوں میں ریاست کی صنعتی ترقی، انفراسٹرکچر کی توسیع، شہری نقل و حمل، ملازمین کی بہبود اور انتظامی اصلاحات پر خصوصی زور دیا گیا۔سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے میٹنگ نے 'بہار انڈسٹریل انویسٹمنٹ پروموشن پیکج‘ کی میعاد جون 2026 تک بڑھا دی، جو پہلے 31 مارچ 2026 تک مقرر تھی۔ ساتویں ریاستی مالیاتی کمیشن کی میعاد بھی 30 ستمبر 2026 تک بڑھا دی گئی۔حکومت نے بی آئی اے ڈی اے کی 1.85 ایکڑ اراضی ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا، پٹنہ کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ریاست میں ہوا بازی کی سہولیات کی توسیع میں آسانی ہوگی۔شہری نقل و حمل کو مضبوط بنانے کے لیے 400 الیکٹرک ایئر کنڈیشنڈ بسوں کے 12 سالہ آپریشن کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے 517.16 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔ گورنر اور ان کے سکریٹریٹ کے استعمال کے لیے چھ نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے 1.53 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔صحت کے شعبے میں لیا گیا اہم فیصلہ، سیتامڑھی میں بننے والے گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال کا نام’ماں سیتا‘ کے نام پر رکھنے کی منظوریریاست کے منتخب شہری علاقوں کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے عالمی بینک سے 500 لاکھ کے قرض سے بہار اربن ٹرانسپورٹ پروگرام کو نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے کابینہ کی میٹنگ نے طویل مدتی آؤٹ پٹ پرفارمنس پر مبنی روڈ اثاثہ کی بحالی کے معاہدے کے تحت 19,305.58 کلومیٹر سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے 15,968 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم کو منظوری دی۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی اور سنٹرلائزڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے ذریعے نگرانی شامل ہے۔تعلیم کے میدان میں ارول اور شیخ پورہ سمیت کئی اضلاع میں کیندریہ ودیالیہ کھولنے کے لیے ایک روپے کے ٹوکن پر 30 سال کے لیز پر زمین فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ گنگاندی کے کناروں بشمول بکسر کے کئی علاقوں میں کٹاؤ کو روکنے کے لیے مختلف منصوبوں پر تقریباً 50 سے 60 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ بکسر-کوئلور گنگا کے پشتے کو مضبوط بنانے اور کٹاؤ روکنے کے کاموں کے لیے 52.56 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے، جس سے گنگا پور، بھوسولا، نند پور، اور دامودر پور جیسے علاقوں کو راحت ملے گی۔بلدیاتی انتخابات میں شفافیت بڑھانے کے لیے 'آئی ووٹنگ سسٹم‘کو نافذ کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے جس کی ذمہ داری سی۔ ڈی اے سی حیدرآباد کو سونپی گئی ہے۔ حکومت نے بزرگ شہریوں، معذور افراد، شدید بیماریوں میں مبتلا افراد اور تارکین وطن ووٹروں کے لیے ان کے گھروں کے قریب ووٹنگ کی سہولیات فراہم کرنے کا ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande