نیٹ امیدواروں سے ایم بی بی ایس میں داخلے کے نام پر دھوکہ دینے والا گروہ پکڑا، ڈاکٹر سمیت چار گرفتار
نئی دہلی، 4 مئی (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے این ای ای ٹی(نیٹ) امیدواروں کو ایم بی بی ایس میں داخلہ دلانے کا وعدہ کرکے لاکھوں روپے کی دھوکہ دہی کرنے والے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے ڈاکٹر سمیت چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے ۔ملزمین کے
CRIME-BRANCH-MBBS-admission


نئی دہلی، 4 مئی (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے این ای ای ٹی(نیٹ) امیدواروں کو ایم بی بی ایس میں داخلہ دلانے کا وعدہ کرکے لاکھوں روپے کی دھوکہ دہی کرنے والے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے ڈاکٹر سمیت چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے ۔ملزمین کے قبضے سے 18طلبا کو آزاد کروایا گیا ہے ،جن میں کئی نابالغ بھی شامل ہیں۔

کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سنجیو یادو نے پیر کے روز بتایا کہ ملزمین طلبا اور ان کے والدین کو میڈیکل کالج میں داخلے کا وعدہ کرکے 20 سے 30 لاکھ روپے کی مانگ کرتے تھے۔ اس کے بدلے میں، نقد رقم، 10ویں اور 12ویں جماعت کی اصل مارک شیٹس اور خالی دستخط شدہ چیک لیتے تھے ۔ اس معاملے کا انکشاف گجرات پولیس سے اطلاع موصول ہونے کے بعد ہوا۔

اطلاع ملی تھی کہ ایک شخص دہلی میں رہ کرنیٹ-یوجی 2026 کے ذریعے میڈیکل کالج میں داخلہ دلانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس کے بعد کرائم برانچ نے مہیپال پور علاقے میں تقریباً 100 ہوٹلوں میں تلاشی مہم چلائی ۔ تحقیقات کے دوران گجرات سے آئے کچھ لوگ ایک ہوٹل میں پائے گئے۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ ملزمین نے ان کے بچوں کو ایم بی بی ایس میں داخلہ دلانے کا وعدہ کرکے ان سے رقم اور دستاویزات لیے ہیں۔

تحقیقات کے دوران، پولیس کو پتہ لگا کہ طلباءکو ”اہم سوالیہ پرچے“ فراہم کرنے کے بہانے ان کے والدین سے الگ کرکے ایک مقام پر رکھا جا رہا ہے ۔ اس کے بعد پولیس نے غازی آباد کے منی پال اسپتال کے قریب جال بچھا کر ماسٹر مائنڈ سنتوش کمار جیسوال کو گرفتار کر لیا اور تین طلبا کو آزاد کروایا۔ مزید تحقیقات کے نتیجے میں غازی آباد کے ایک فلیٹ سے مزید 15 طالب علموں کی بازیابی ہوئی۔ ان میں سے کچھ طلبا اگلے دن نیٹ کے امتحان میں شامل ہونے والے تھے۔ پولیس نے ان کی کونسلنگ کی اور امتحان دینے کے لیے بھیج دیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت سنتوش کمار جیسوال، ڈاکٹر اخلاق عالم عرف گولڈن عالم، سنت پرتاپ سنگھ، اور ونود بھائی پٹیل کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے 149 صفحات پر مشتمل فرضی سوال نامہ/ اسٹڈی میٹریل، متاثرین کے دستخط شدہ تین بلینک چیک اور دیگر دستاویزات برآمد کیں۔

پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سنتوش جیسوال پورے ریکیٹ کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ ڈاکٹر اخلاق نے پرانے سوالیہ پرچے اور کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے سوالیہ بنک کا استعمال کرتے ہوئے فرضی پرچے تیار کیے۔ سنت پرتاپ سنگھ نے رہائش اور ملاقاتوں کے لیے فلیٹ فراہم کیا، جب کہ ونود پٹیل نے گجرات میں والدین سے رابطہ کیا اور انہیں اس پر آمادہ کیا۔

کرائم برانچ اب گینگ کے دیگر ارکان اور بچولئے افراد کی تلاش کر رہی ہے۔ پولیس نے طلباءاور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ داخلوں کے نام پر پیش کیے جانے والے جھوٹے دعووں اور شارٹ کٹس کا شکار نہ ہوں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande