ابھیشیک بنرجی پر مبینہ حملے کے الزام میں چار گرفتار، کئی دیگر سے تفتیش جاری
کولکاتا، 31 مئی (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر مبینہ حملے کے سلسلے میں پولیس نے چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کی شناخت علاقے سے ویڈیو فوٹیج کے بعد کی گئی۔ تین دیگر اف
ابھیشیک


کولکاتا، 31 مئی (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر مبینہ حملے کے سلسلے میں پولیس نے چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کی شناخت علاقے سے ویڈیو فوٹیج کے بعد کی گئی۔ تین دیگر افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ابھیشیک بنرجی ہفتہ کو جنوبی 24 پرگنہ کے سونار پور گئے تھے تاکہ انتخابات کے بعد کے تشدد میں مارے گئے ترنمول کانگریس کے کارکن کے اہل خانہ سے ملاقات کریں۔لیکن انہیں مقامی لوگوں کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کے دوران ان کے قافلے پر جوتے، انڈے اور دیگر اشیاءپھینکی گئیں اور چور، چور کے نعرے لگائے گئے۔

حالات کشیدہ ہوتے ہی ابھیشیک بنرجی نے حفاظت کے لیے ہیلمٹ پہنا۔ اس دوران ان کی قمیض بھی پھٹ گئی۔ اس واقعے کے بعد، انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حملہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا اور یہ کہ ان کے دورے کی پیشگی معلومات کی وجہ سے احتجاج کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ انہوں نے اس معاملے میں قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔

پولیس ذرائع کے مطابق سونار پور پولیس اسٹیشن نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیا اور مقدمہ درج کرلیا۔ دوران تفتیش مختلف ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے، جن کی بنیاد پر ملزمان کو شناخت کرکے گرفتار کیا گیا۔ تمام گرفتار ملزمان کو اتوار کو باروئی پور مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا جا رہا ہے۔

وہیں، ترنمول کانگریس نے پولیس پر جائے وقوعہ پر دیر سے پہنچنے اور مناسب سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی نے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ ملزمین بی جے پی سے وابستہ ہیں۔ پارٹی نے اس سلسلے میں کئی ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔

واقعے کے بعد ابھیشیک بنرجی کو علاج کے لیے جنوبی کولکاتا کے ایک نجی اسپتال لے جایا گیا۔ بعد میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ان کی عیادت کی۔ طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے طے کیا کہ انہیں اسپتال میں ایڈمٹ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس دوران، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال سمیت اپوزیشن اتحاد انڈی کے کئی رہنماو¿ں نے واقعے کی مذمت کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور دیگر مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande