امریکہ نے خلیج عمان میں جہاز پر میزائل داغا، ایران نے برہمی کا اظہار کیا
مسقط/تہران (ایران)/واشنگٹن، 31 مئی (ہ س)۔ امریکہ نے خلیج عمان میں وارننگ کے باوجود آگے بڑھ رہے تجارتی جہاز (ٹینکر) کو ہیل فائر میزائل داغ کر ناکارہ کر دیا۔ ہیل فائر ہوا سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے۔ امریکہ کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے اپنے ای
ایران کی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کی ناکہ بندی جاری، سینٹ کام کا دعویٰ ہے کہ 29 مئی تک 115 تجارتی جہازوں کا راستہ بدلا گیا، یہ یقینی بنایا گیا کہ ایرانی بندرگاہوں سے کوئی بھی تجارتی سامان اندر یا باہر نہ جائے - فوٹو: سینٹ کام ایکس ہینڈل


مسقط/تہران (ایران)/واشنگٹن، 31 مئی (ہ س)۔ امریکہ نے خلیج عمان میں وارننگ کے باوجود آگے بڑھ رہے تجارتی جہاز (ٹینکر) کو ہیل فائر میزائل داغ کر ناکارہ کر دیا۔ ہیل فائر ہوا سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے۔ امریکہ کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے اپنے ایکس ہینڈل پر یہ معلومات دی ہے۔ سینٹ کام امریکی محکمہ دفاع کی اہم جنگی کمان ہے، جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں امریکی سیکورٹی مفادات اور فوجی کارروائیوں کا انتظام کرتی ہے۔ ایران نے امریکہ کے اس قدم کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔

’گلف نیوز‘ اور ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق، اس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ سینٹ کام نے کہا کہ خلیج عمان میں ہیل فائر میزائل حملے میں گیمبیا کا جھنڈا لگا کر گزر رہے تجارتی جہاز کو ناکارہ کر دیا گیا ہے۔ یہ جہاز وارننگ کو نظر انداز کر کے ایرانی بندرگاہ کی طرف بڑھتا جا رہا تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکہ فوجی ناکہ بندی کو جاری رکھ کر سفارتی دھوکہ دہی کر رہا ہے۔

ناکارہ کیے گئے اس جہاز کی شناخت ایم/وی لیان اسٹار کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی بحریہ اور فضائیہ نے اسے بین الاقوامی سمندری حدود میں فوجی ناکہ بندی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آگے بڑھتے دیکھا۔ اسے 20 سے زیادہ بار وارننگ دی گئی۔ سینٹ کام کے حکام نے بتایا کہ جہاز کے عملے نے ان وارننگز پر عمل نہیں کیا، جس کی وجہ سے اس پر میزائل حملہ کرنا پڑا۔ اب یہ جہاز آگے نہیں بڑھ سکتا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اس کے باوجود ایران کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے آگے بڑھ رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن معاہدہ کرنے کی جلد بازی نہیں ہے۔ وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ان کے معیار کے مطابق ہو۔ صدر واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو ہر حال میں کچھ شرائط کو ماننا ہوگا۔ معاہدے کا مسودہ تیار ہے۔ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ہر حال میں چھوڑنا ہوگا، اس کے بغیر کوئی بھی معاہدہ ناممکن ہے۔

پینٹاگون کے سربراہ ہیگستھ نے سنگاپور میں ایک دفاعی سربراہی کانفرنس میں حصہ لیتے ہوئے ہفتہ کے روز کہا کہ ضرورت پڑنے پر واشنگٹن کو جنگ پھر سے شروع کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔ امریکہ کے پاس اس کے لیے کافی ساز و سامان موجود ہے۔ اس سے پہلے سینٹ کام نے ایکس پر لکھا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز میں موجود ہیں اور پوری طرح مستعد ہیں۔

’اے بی سی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق، عمان کے حکام نے ہفتہ کے روز ایک الرٹ جاری کیا۔ اس میں تمام جہازوں کو احتیاط برتنے کی وارننگ دی گئی ہے۔ عمان کے میرین سیکورٹی سینٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے پاس عمان کی سمندری حدود میں ایک مشکوک تیرتی ہوئی چیز (ممکنہ طور پر بحری بارودی سرنگ) دیکھی گئی ہے۔ یہ چیز آبنائے کے ’انشور ٹریفک زون‘ کے ٹھیک مغرب میں دکھائی دی ہے۔ صلاح دی گئی ہے کہ سبھی ملاح، ماہی گیر اور تجارتی جہاز اس سے فاصلہ بنا کر گزریں اور فوری طور پر مطلع کریں۔ عمان کی وزارت دفاع نے بھی اس صلاح پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس دوران ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ بدھ کے روز کویت کے علی السالم ایئر بیس کے اوپر روکے گئے ایرانی میزائل حملے میں کئی امریکی فوجیوں اور سویلین کانٹریکٹرز کو معمولی چوٹیں آئیں اور وہ اب ڈیوٹی پر لوٹ آئے ہیں۔ یہ چوٹیں میزائل کو روکنے کے دوران گرنے والے ملبے سے لگیں۔ جمعہ تک پینٹاگون کے ڈیٹا کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ میں 409 فوجی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو دماغی صدمہ پہنچا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ ٹکراو 28 فروری سے برقرار ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے مل کر فوجی، سرکاری اور بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بناتے ہوئے زبردست حملے کیے تھے۔ اس حملے میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر اور فوجی کمانڈروں کی جان چلی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande