
واشنگٹن،31مئی (ہ س)۔امریکا اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ ایک اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ تسلی بخش نہ ہوا ،تو وہ دوبارہ فوجی آپشن اور ''وزارتِ جنگ ''کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔اتوار کو نشر ہونے والے فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ کسی معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھل جائے گی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کھلنے اور ایرانی جوہری پروگرام کے معاملے کے حل کے بعد امریکی افواج خطے سے واپس چلی جائیں گی۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:آبنائے ہرمز کو فوری طور پر اور بغیر کسی عبوری فیس کے کھولا جانا چاہیے، جبکہ تہران کو کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے مستقل طور پر روکا جانا چاہیے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ آہستہ آہستہ مگر مستقل انداز میں ایران سے اپنی مطلوبہ چیزیں حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اس تنازع کو بالکل مختلف طریقے سے ختم کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں وقت لگ رہا ہے، کیونکہ ان کے بقول ایرانی تجربہ کار مذاکرات کار ہیں۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں کسی قسم کی جلدی نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران پہلے ہی اس بات پر رضامند ہو چکا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی اسے خریدے گا۔امریکی صدر نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ موجودہ محاذ آرائی امریکہ کی مکمل فتح ثابت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات کو ایرانی نظام میں تبدیلی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا:ہم نے ایرانی قیادت کو ایک سے زیادہ مرتبہ نشانہ بنایا اور جو رہنما باقی بچے ہیں، وہ اب زیادہ حقیقت پسند اور محتاط ہو گئے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اس وقت انتہائی خراب پوزیشن میں ہے۔ ان کے بقول ایران کے پاس اب کوئی فوج نہیں، اس کے پاس صرف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والا میڈیا رہ گیا ہے۔ادھر امریکی حکام نے جنہیں مذاکرات کی تفصیلات کا علم ہے، انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ نے ممکنہ فریم ورک معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دی ہیں اور اپنی ترامیم تہران کو بھجوا دی ہیں۔یہ بات نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کی ہے۔ایک باخبر ذریعے کے مطابق ایرانی جوہری پروگرام سمیت اہم متنازع معاملات کو آئندہ مذاکراتی ادوار کے لیے مو¿خر کیا جا سکتا ہے۔مجوزہ معاہدے میں جنگ کے خاتمے کے بدلے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر عائد رکاوٹیں ختم کرنے کی شق بھی شامل ہے۔دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان زیرِ بحث مفاہمتی یادداشت میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر 60 روز کے اندر ایران کو جاری کیے جائیں۔گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے، تاہم مذاکرات اب بھی کشیدہ ماحول میں جاری ہیں۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔ اس کے بعد سے امریکہ جنوبی ایران اور ایرانی کشتیوں کے خلاف متعدد حملے کر چکا ہے۔واضح رہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا مسئلہ جاری مذاکرات کا ایک اہم نکتہ ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد 28 فروری کو ایران اور دوسری جانب امریکہ و اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ ہے۔اسی طرح اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرنے کا معاملہ بھی ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق سب سے پیچیدہ اور حساس نکات میں شمار کیا جاتا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan