روس اور طالبان کے درمیان عسکری تعاون کامعاہدہ، فضائی دفاع کا معاملہ بھی زیر غور
ماسکو،31مئی (ہ س)۔روس اور طالبان حکومت نے گذشتہ ہفتے طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد کے دورہ ماسکو کے دوران عسکری اور تکنیکی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اقدام دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کو سیاسی ہم آہنگی سے براہ را
روس اور طالبان کے درمیان عسکری تعاون کامعاہدہ، فضائی دفاع کا معاملہ بھی زیر غور


ماسکو،31مئی (ہ س)۔روس اور طالبان حکومت نے گذشتہ ہفتے طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد کے دورہ ماسکو کے دوران عسکری اور تکنیکی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اقدام دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کو سیاسی ہم آہنگی سے براہ راست عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔اس معاہدے پر ماسکو میں منعقدہ انٹرنیشنل سکیورٹی فورم کے حاشیے پر روسی سکیورٹی کونسل کے سکرٹری سرگئی شوئیگو اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع کی موجودگی میں دستخط کیے گئے، تاہم طے پانے والی شقوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔افغان وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ یہ معاہدہ ایک قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے تحت طالبان حکومت روسی عسکری سازوسامان کی خریداری کے سودے کر سکے گی، اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی تعاون اور تربیتی پروگرام بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ ذریعے نے واضح کیا کہ فضائی دفاعی نظام کی فوری حوالگی کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے، تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ یہ معاہدہ مستقبل میں وسیع تر تعاون کے لیے راہ ہموار کرے گا۔دوسری جانب، دیگر ذرائع نے بتایا کہ حالیہ مذاکرات کے دوران طالبان کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے، اس کے علاوہ افغان افواج کو زمینی فوج کے لیے سازوسامان فراہم کرنے اور خصوصی تربیتی پروگراموں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ ابھی تک ان آلات کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی اور نہ ہی یہ پتا چل سکا ہے کہ آیا ان میں جدید ترین نظام یا ڈرون طیارے شامل ہوں گے یا نہیں۔سکیورٹی فورم میں شرکت کے دوران طالبان حکومت کے وزیر دفاع نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایک ایسے پیشہ ورانہ دفاعی نظام کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے جو افغانستان کی حفاظت کرنے اور خطے کے استحکام میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغان سرزمیں کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔فضائی دفاعی نظام میں طالبان کی دلچسپی گذشتہ فروری میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے بعد بڑھی، جس نے افغان فضائی حدود کے تحفظ میں ان کی محدود صلاحیتوں کو بے نقاب کر دیا تھا، کیونکہ سنہ 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے وہاں کوئی جامع دفاعی نظام موجود نہیں ہے۔دوسری طرف، ماسکو افغانستان کی سکیورٹی صورتحال کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار مسلسل کر رہا ہے۔ شوئیگو نے تصدیق کی کہ منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ اور عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں اب بھی خطے کے ممالک کے لیے بڑے چیلنجز ہیں، انہوں نے افغانستان یا اس کے پڑوس میں امریکی یا نیٹو کے عسکری ڈھانچے کی کسی بھی شکل میں واپسی کو اپنے ملک کی طرف سے مسترد کرنے کے موقف کو دہرایا۔یہ نیا معاہدہ دونوں فریقین کے درمیان تیزی سے بڑھتے ہوئے تعاون کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ روس نے سنہ 2025 کے اپریل میں طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالا تھا، جس کے بعد وہ اسی سال جولائی میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔ دونوں فریقین نے ایسے سفارتی اقدامات کا تبادلہ بھی کیا ہے جنہوں نے سیاسی تعلقات کی سطح کو مضبوط کیا ہے۔اگرچہ ماسکو اس بات پر زور دیتا ہے کہ طالبان کے ساتھ اس کے روابط دہشت گردی کے خاتمے اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے سے جڑے سکیورٹی خدشات کے تابع ہیں، تاہم دوسری طرف طالبان تحریک اپنی بین الاقوامی تنہائی کو توڑنے اور تربیت و مسلح سازی کے نئے ذرائع حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے باعث یہ حالیہ عسکری معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات کے سفر میں ایک اہم سنگ میل بن گیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande