
اہم مطالبات تسلیم، شندے کمیٹی کی مدت میں ایک سال توسیع پر بھی اتفاقجالنہ، 31 مئی (ہ س)۔ مراٹھا ریزرویشن تحریک میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مراٹھا سماج کے مطالبات کے حق میں جاری بھوک ہڑتال حکومت کی یقین دہانی کے بعد ختم کر دی گئی۔ تحریک کے سرکردہ رہنما منوج جرانگے پاٹل نے ریاستی حکومت کی جانب سے اپنے اہم مطالبات قبول کیے جانے اور ان پر جلد عمل درآمد کے وعدے کے بعد احتجاج واپس لینے کا اعلان کیا۔منوج جرانگے پاٹل نے مراٹھا برادری سے متعلق مختلف مطالبات کی منظوری کے لیے جالنہ ضلع کے انتر والی سراتی گاؤں میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ احتجاج کا دوسرا دن جاری تھا جب ریاستی حکومت نے معاملے کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکراتی عمل تیز کر دیا۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب حکومت کا ایک وفد خصوصی طور پر انتر والی سراتی پہنچا اور جرانگے پاٹل کے ساتھ طویل بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان زیر التوا مطالبات اور ان کے نفاذ کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔اتوار کی علی الصبح تقریباً ایک بجے ریونیو وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل کی قیادت میں حکومتی نمائندوں نے جرانگے پاٹل سے ملاقات کی۔ اس وفد میں رکن اسمبلی پرساد لاڈ اور جالنہ شہر بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر کشور شیتولے بھی شامل تھے۔ مذاکرات کے دوران حکومتی نمائندوں نے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا کہ مراٹھا سماج کے پیش کردہ مطالبات پر مثبت اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس موقع پر شندے کمیٹی کی مدت میں مزید ایک سال توسیع کے مطالبے کو بھی قبول کر لیا گیا۔حکومت کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں کے بعد منوج جرانگے پاٹل نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کا باقاعدہ اعلان کیا۔ ان کے اس فیصلے کے بعد احتجاجی مقام پر موجود کارکنوں اور حامیوں میں اطمینان کا ماحول دیکھا گیا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریونیو وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل نے کہا کہ ریاستی حکومت نے منوج جرانگے پاٹل کے تمام اہم مطالبات اصولی طور پر قبول کر لیے ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے ضروری کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس مسلسل مراٹھا سماج کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ رہے ہیں اور حکومت اس معاملے میں مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ وکھے پاٹل کے مطابق منظور شدہ نکات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات دی جا رہی ہیں اور آئندہ دو سے تین دن کے اندر سرکاری احکامات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے مراٹھا ریزرویشن تحریک میں وقتی طور پر کشیدگی کم ہونے کی توقع ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے احکامات پر بھی سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے