
وزیر اعظم کے خیالات سے ہم وطنوں میں فرض اور خود اعتمادی کا احساس پیدا ہوتا ہے: وجے سنہاپٹنہ، 31 مئی (ہ س)۔ حکومت بہارکے وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر وجے کمار سنہا نے اتوار کے روز پٹنہ میں بی جے پی کے ریاستی دفتر میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبول ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات کو سنا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’’من کی بات‘‘ صرف ایک پروگرام نہیں ہے بلکہ عوامی مکالمے کا ایک طاقتور پلیٹ فارم ہے جو کروڑوں شہریوں کو جوڑتا ہے، معاشرے میں مثبت تبدیلی اور قوم کی تعمیر کے جذبے کو مسلسل تقویت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے متاثر کن خطاب میں وزیر اعظم نےشدید گرمی کے دوران عوا م کی حفاظت اور صحت سے متعلق یندوستان کی بھرپور مشترکہ ثقافت اور اس کی عالمی برآمدات، کھیلوں کی دنیا میں ابھرتے ہوئے نئے ٹیلنٹ، سماجی اختراعات، ثقافتی ورثے کا تحفظ اور ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ جیسے اہم موضوع پر وزیر اعظم کی بات سے ہم وطنوں کو مثبت تنوائی ،خود اعتمادی، فرض کا احساس اور قومی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے خاص طور پر ہندوستان کے تنوع، ثقافتی ورثے، نوجوانوں کی صلاحیتوں اور عوامی شراکت کی طاقت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک بھر میں لاکھوں لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی کوششوں کے ذریعے بڑے قومی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اجتماعی طاقت ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کی بنیاد ہے۔وزیر سنہا نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی ورثے کی واپسی، گیان بھارتم ابھیان کے تحت تاریخی دریافتیں اور گنگا ڈولفن تحفظ جیسے مسائل ملک کے شاندار ورثے اور فطرت کے تئیں ہماری ذمہ داری کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اقدامات شہریوں میں ہماری ثقافت، تاریخ اور ماحول کے بارے میں بیداری بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہر بات چیت سے ہم وطنوں میں مثبت توانائی، خود اعتمادی، فرض کا احساس اور قومی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ’’من کی بات‘‘ ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کو عوام تک پہنچانے اور سماج کے ہر طبقے کو قوم سازی کی مہم سے جوڑنے کا ایک موثر ذریعہ بن گیا ہے۔ بی جے پی کارکن بھی اسی جذبے کے ساتھ سماج اور ملک کی خدمت کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر ریاستی افسران اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور انہوں نے پی ایم مودی کی من کی بات کو توجہ سے سنا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan