ایل جی لداخ ونئے کمار سکسینہ نے نئی ایکسائز پالیسی کو منظوری دی
لداخ, 31 مئی (ہ س)مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے نئی ایکسائز پالیسی کو منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ہارڈ شراب کی فروخت، نئے شراب فروش مراکز کے قیام اور لائسنسنگ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ ا
Lg saksena


لداخ, 31 مئی (ہ س)مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے نئی ایکسائز پالیسی کو منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ہارڈ شراب کی فروخت، نئے شراب فروش مراکز کے قیام اور لائسنسنگ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پالیسی کا مقصد منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر قابو پانا، سیاحت کو فروغ دینا اور ایکسائز محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔سرکاری بیان کے مطابق نئی پالیسی کئی ماہ تک سول سوسائٹی، مذہبی تنظیموں، عوامی نمائندوں اور ماہرین کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کی گئی۔ مشاورت کے دوران منشیات اور غیر قانونی شراب کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد موجودہ ایکسائز نظام کا ازسرنو جائزہ لیا گیا۔

پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ ہارڈ شراب، غیر ملکی شراب اور انڈین میڈ فارن لیکر کی فروخت ریٹیل وینڈز کے ذریعے ممکن ہوگی۔ اس سے قبل صرف بیئر، وائن اور کم الکحل والے مشروبات فروخت کرنے کی اجازت تھی۔انتظامیہ نے لداخ میں شراب کی محدود دستیابی کو ختم کرنے کے لیے 20 نئے لائسنس یافتہ وینڈز ای نیلامی کے ذریعے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل پورے خطے میں صرف دو شراب فروش مراکز کام کر رہے تھے۔ نئی پالیسی کے تحت شراب کی دستیابی کو صرف لے شہر تک محدود رکھنے کے بجائے نوبرا، چانگ تھانگ، شام اور زنسکار تک توسیع دی گئی ہے۔پالیسی میں گیسٹ ہاؤسز اور ہوم اسٹیز کو بھی مخصوص فیس کے عوض شراب فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ پہلی بار مائیکرو بریوریوں کے ساتھ بیئر بارز کے قیام کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ہوٹلوں کے کمروں میں بھی شراب کے استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے۔لائسنس کے حصول کے لیے درکار دستاویزات کی تعداد 16 سے کم کرکے صرف 6 کر دی گئی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی منظوری کی لازمی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے تاکہ کاروباری عمل کو آسان بنایا جا سکے۔لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے کہا کہ نئی ایکسائز پالیسی عوامی مفاد، سیاحت، اقتصادی سرگرمیوں اور منشیات کی روک تھام کے درمیان متوازن نظام قائم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

پالیسی کے تحت مقررہ قیمت سے زیادہ نرخوں پر شراب فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ شراب کی بوتلوں پر سیکورٹی ہولوگرام لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے پیش نظر پلاسٹک کی بوتلوں میں شراب کی فروخت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔حکام کے مطابق شراب فروش مراکز صرف ان مقامات پر قائم کیے جائیں گے جو عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور عوامی پارکوں سے کم از کم 100 میٹر دور ہوں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande