
بیروت، 31 مئی (ہ س)۔ جنوبی لبنان میں کہرام برپا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں اور ایران کے تعاون یافتہ جنگجو گروپ حزب اللہ کے درمیان لڑائی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اس وقت اسرائیل کا پورا زور لبنان کے اہم شہر نبطیہ کو چاروں طرف سے گھیرنے پر لگا ہوا ہے۔ نبطیہ حزب اللہ کا اہم ٹھکانہ ہے۔ اس کے تقریباً تمام اہم کمانڈر اور لیڈر نبطیہ میں ہی اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہیں۔
شیعہ اکثریتی نبطیہ کو حزب اللہ کے سماجی بنیاد اور مزاحمت کے نظریے کا بنیادی ستون مانا جاتا ہے۔ سال 1983 میں عاشورہ کے جلوس کے دوران اسرائیلی فوجیوں کے خلاف مسلح بغاوت کی چنگاری یہیں سے اٹھی تھی۔ نبطیہ اسرائیل کی سرحد کے بالکل قریب واقع ہے۔ حزب اللہ نبطیہ سے ہی اسرائیل کے شہروں پر راکٹ اور میزائل داغتا ہے۔ نبطیہ - نبطیہ گورنریٹ اور قضا ضلع کا انتظامی ہیڈکوارٹر ہے۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے فوجی حملہ کرتے ہوئے نبطیہ کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ ساتھ ہی جنگ سے تباہ حال جنوب کے قصبوں کو زبردستی عام لوگوں سے خالی کرایا جا رہا ہے۔ آئی ڈی ایف کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانوں اور اس کے کمانڈروں کا پوری طرح خاتمہ کرنا ہے۔ لبنان کی فوج یہ سب خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ جیو پولیٹیکل تجزیہ کار جو میکرون کا کہنا ہے کہ لبنانی فوج ’’پوری طرح سے کھینچی ہوئی‘‘ ہے، کیونکہ اسرائیلی فوجی لبنانی علاقے پر اپنا قبضہ بڑھا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی فوج لبنان کی دریائے لیتانی کے شمال کی طرف بڑھ گئی ہے۔ فوجی نبطیہ کو آہستہ آہستہ چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں۔ حزب اللہ نے عجلت میں شمالی اسرائیل میں نبطیہ سے راکٹ حملے شروع کیے ہیں۔ حملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نتن یاہو نے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز، فوجی سربراہ ایال ضمیر اور شمال میں محاذ سنبھالنے والے سینئر حکام سے صلاح و مشورہ کیا ہے۔
حزب اللہ نے ہفتہ کے روز نبطیہ سے اسرائیل کے شمال کی طرف درجنوں راکٹ داغے۔ 17 اپریل کو ہوئی جنگ بندی کے بعد پہلی بار شمالی اسرائیل کے صفد اور نہاریہ میں راکٹ سے حملہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو نے کہا ہے کہ شمالی اسرائیل میں 1,099 بار انتباہی سائرن بجائے گئے۔ اس دوران، حزب اللہ نے کہا کہ شمالی اسرائیل کی نٹوا بستی کے پاس اور گیلیلی فارسٹ ملٹری کیمپ پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیل سے ملک کے جنوبی حصے میں حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ 2 مارچ سے اب تک ملک پر ہوئے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 3,371 لوگ مارے جا چکے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن