
ہگلی، 31مئی (ہ س)۔ اتوار کو ضلع کے چنڈیتلا پولیس اسٹیشن کے سامنے ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے حامیوں کے درمیان تصادم نے سیاسی رنگ لے لیا۔ ترنمول کانگریس کی طرف سے پارٹی رہنماو¿ں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے لیے پولیس اسٹیشن میں ایک یادداشت پیش کرنے کا پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس دوران دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی جاری رہی۔ اس واقعے میں سری رام پور سے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی زخمی ہو گئے۔عینی شاہدین کے مطابق سب سے پہلے پولیس اسٹیشن کے سامنے موجود دونوں جماعتوں کے حامیوں کے درمیان نعرے بازی شروع ہوئی۔
یہ تنازعہ اس وقت بڑھ گیا جب ترنمول کانگریس نے الزام لگایا کہ بی جے پی کارکنوں نے ان کے حامیوں کے خلاف’چور چور‘ کے نعرے لگائے۔ صورتحال بگڑنے پر پولیس اور مرکزی افواج کو مداخلت کرنی پڑی۔ واقعے کے بعد کلیان بنرجی نے بی جے پی کے خلاف سنگین الزامات لگائے۔انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے ساتھ کسی کو نہیں لایا۔‘ میں پنڈیتلا جاتے ہوئے اکیلا تھا۔ چنڈیتلا موڑ کے قریب بی جے پی کارکنوں نے مجھ پر کچھ پھینکا۔ یہ ڈیوس بال تھی یا کوئی اور چیز، مجھے نہیں معلوم، لیکن میرے سر سے خون بہنے لگا۔
جذباتی لہجے میں انہوں نے کہا کہ اب میرے پاس زیادہ بات کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ یہ چنڈیتلا کے لوگوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا کسی ایم پی پر حملہ کرنا مناسب ہے یا نہیں۔ یہ کوئی دھوکہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ بھگوا پٹی باندھ کرترنمول کے کارکنوں کو مار رہے تھے۔ کلیان بنرجی نے مزید الزام لگایا کہ ریاست بھر میں بی جے پی کے حامی ترنمول کارکنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ موقع پر پہنچتے ہی ایک خاتون نے انہیں بتایا کہ بی جے پی کارکنوں نے ترنمول کے حامیوں کو مارا پیٹا ہے۔تاہم بی جے پی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ سری رام پور بی جے پی ضلع صدر سمن گھوش نے کہا کہ بی جے پی کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور کلیان بنرجی عوام کے غصے کا شکار ہو گئے ہیں۔
سمن گھوش نے کہا کہ اس معاملے میں بی جے پی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ایک مہینہ بھی نہیں گزرا اور لوگوں نے ترنمول کانگریس کو اقتدار سے باہر کر دیا ہے۔ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرنے سے، اگر کوئی وزیر اعلی کے بارے میں برے الفاظ کہے گا تو فطری طور پر لوگوں کا ردعمل سامنے آئے گا۔
یاد رہے کہ ایک دن پہلے سونار پور میں ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری اور ڈائمنڈ ہاربر کے ایم پی ابھیشیک بنرجی پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ ایسی صورتحال میں لگاتار دو دنوں میں ترنمول کے دو ممبران پارلیمنٹ کے زخمی ہونے سے ریاستی سیاست میں الزام تراشی کا کھیل تیز ہو گیا ہے۔ اس وقت چند یتلا میں صورتحال قابو میں بتائی جاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan