اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں قلعہ بوفرٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان
بیروت،31مئی (ہ س)۔جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات پر شدید فضائی حملوں کے تسلسل کے دوران اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں واقع تاریخی قلعہ بوفرٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔یہ قلعہ صلیبی دور میں ایک اہم سٹریٹجک پہاڑی مقام پر تعمیر کیا
اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں قلعہ بوفرٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان


بیروت،31مئی (ہ س)۔جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات پر شدید فضائی حملوں کے تسلسل کے دوران اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں واقع تاریخی قلعہ بوفرٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔یہ قلعہ صلیبی دور میں ایک اہم سٹریٹجک پہاڑی مقام پر تعمیر کیا گیا تھا اور اسے حزب اللہ کے ساتھ مارچ کے آغاز سے جاری جنگ میں اسرائیل کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان اویخائے ادرعی نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر جاری کی، جس میں اسرائیلی فوجی قلعے کے اطراف گشت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔اسرائیل اس قلعے پر ماضی میں 18 سال تک قابض رہا تھا، تاہم سال 2000 میں لبنان سے انخلا کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔موجودہ پیش رفت کو گزشتہ پچیس برس سے زائد عرصے میں اسرائیلی افواج کی لبنان کے اندر سب سے گہری پیش قدمی قرار دیا جا رہا ہے۔اویخائے ادرعی نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ قلعہ شقیف اور وادی السلوقی کے علاقے میں ایک وسیع فوجی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ شمالی کمان نے جنوبی لبنان میں شقیف قلعہ اور وادی السلوقی کے علاقے میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے، جنوبی علاقے میں آپریشنل کنٹرول مضبوط بنانے اور الجلیل کی انگلی (فنگر آف گلیل) اور المطلہ بستی کو درپیش براہِ راست خطرات ختم کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ کارروائی چند روز قبل شروع کی گئی تھی، جس کے تحت بڑی زمینی فوجی قوتیں میدان میں اتاری گئیں۔

ان میں گولانی بریگیڈ، ساتویں بکتر بند بریگیڈ، جفعاتی بریگیڈ، فائر بریگیڈ اور کثیرالجہتی یونٹ شامل ہیں، جو 36ویں ڈویڑن کی کمان کے تحت اور فوجی انٹیلی جنس کی رہنمائی میں حملہ آور کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق اس آپریشن کا مقصد دفاعی محاذ کو مزید آگے بڑھانا، حزب اللہ کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانا اور سرحدی علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط بنانا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے مزید بتایا کہ چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے اس آپریشن کی منظوری دی تھی اور اس کے لیے جنگی تیاریوں کا عمل منظم انداز میں مکمل کیا گیا۔ان تیاریوں میں پیشگی فضائی و توپ خانے کی کارروائیاں اور مختلف عملیاتی اقدامات شامل تھے، جن کا مقصد شمالی کمان کی نگرانی میں میدانِ جنگ کو آپریشن کے لیے تیار کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی قلعہ بوفرٹ اور وادی السلوقی پر کنٹرول قائم کرنے، حزب اللہ کے خلاف حملوں کو مزید گہرا کرنے اور ان عسکری تنصیبات کو تباہ کرنے پر مرکوز ہے، جو ان کے بقول ایرانی ہدایات کے تحت ان بلند علاقوں میں قائم کی گئی تھیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ ان تنصیبات کو جنگی کارروائیوں کی نگرانی اور مختلف عسکری منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے دریائے لیطانی عبور کر لیا ہے اور حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ دریا کے شمالی علاقوں تک وسیع کر دیا ہے، جبکہ آپریشن مسلسل مزید علاقوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ زمینی افواج کی پیش قدمی سے قبل اسرائیلی فضائیہ نے علاقے میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر پر شدید فضائی حملے کیے۔ ان حملوں کو توپ خانے اور ٹینکوں کی فائرنگ کی مدد بھی حاصل تھی۔ان کے مطابق فوج نے علاقے میں موجود اہم عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ لیطانی کے اطراف فوجی تنصیبات کی تلاش، انہیں غیر فعال بنانے اور آپریشن کے لیے ضروری انجینئرنگ اقدامات بھی انجام دیے۔اویخائے ادرعی نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج نبطیہ کے اطراف بھی سرگرم عمل ہے، جسے حزب اللہ کے جنوبی لبنان میں اہم ترین مراکزِ قوت میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول فوج ضرورت پڑنے پر حملوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے گزشتہ روز خبردار کیا تھا کہ ملک کو ایک خطرناک اسرائیلی فوجی کشیدگی کا سامنا ہے۔

انہوں نے اسرائیل پر’جلی ہوئی زمین‘ (Scorched Earth) کی پالیسی اپنانے کا الزام عائد کیا تھا، جبکہ اسرائیلی فضائی حملے جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات پر جاری ہیں۔

یہ پیش رفت واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی فوجی وفود کے درمیان براہِ راست سکیورٹی مذاکرات کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔اسی طرح آئندہ ہفتے کے آغاز میں امریکہ کی سرپرستی میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک اور براہِ راست مذاکراتی دور متوقع ہے، جو حالیہ جنگ شروع ہونے کے بعد چوتھا دور ہوگا۔دوسری جانب اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون میں لبنانی وفد کے ساتھ ہونے والے سکیورٹی مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔اسرائیلی چینل 15 کے مطابق ان ذرائع کا کہنا تھا کہ '' لبنانی فریق زمینی حقائق کو نہیں سمجھ سکا اور اب وہ ایسی پوزیشن میں نہیں رہا کہ مذاکرات میں اپنی شرائط منوا سکے۔''

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande