بغیر مضبوط ضمانتوں کے امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ قبول نہیں : قالیباف
تہران،31مئی (ہ س)۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران ایران کے سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا ،جو امریکہ کے ساتھ تنازع ختم کرے، جب تک اس میں ایر
بغیر مضبوط ضمانتوں کے امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ قبول نہیں : قالیباف


تہران،31مئی (ہ س)۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران ایران کے سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا ،جو امریکہ کے ساتھ تنازع ختم کرے، جب تک اس میں ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح اور قابلِ اعتماد ضمانتیں شامل نہ ہوں۔

قالیباف نے مجلسِ شوریٰ (پارلیمان) کی نئی انتظامیہ کے اراکین کی حلف برداری کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہران واشنگٹن کے وعدوں پر اعتماد نہیں کرتا۔

ان کے بقول ہمارا واحد معیار عملی اور ٹھوس نتائج ہیں اور ہم اپنی متعلقہ ذمہ داریاں اسی وقت پوری کریں گے، جب زمینی سطح پر نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی'' ارنا'' نے نقل کی۔انہوں نے اندرونی اختلافات کو تنازعات اور تقسیم کا سبب بنانے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ ملک کو تقسیم کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب امریکی حکام اور باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی فریق کو ایک زیادہ سخت مو¿قف پر مبنی تجویز بھیجی ہے، جس کے باعث مذاکرات کا دورانیہ طویل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک ''اچھے معاہدے ''کے قریب ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ مطلوبہ معیار کا نہ ہوا تو وہ دوبارہ فوجی آپشن اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول اگر معاہدہ اچھا نہ ہوا تو ہم دوبارہ فوجی راستہ اور وزارتِ جنگ کا سہارا لیں گے۔فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو آج اتوار کو نشر ہوا، ٹرمپ نے کہا کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق معاملات طے ہونے کے بعد امریکی افواج خطے سے واپس چلی جائیں گی۔

ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز کو فوری طور پر اور بغیر کسی ٹرانزٹ فیس کے کھولنا چاہیے اور ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جانا چاہیے۔ تاہم ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ اس عمل میں وقت لگ رہا ہے کیونکہ ایرانی مذاکرات کار تجربہ کار ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ انہیں کسی قسم کی جلدی نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران اصولی طور پر جوہری ہتھیار نہ بنانے اور نہ ہی حاصل کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے ایک ثالث کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں، تاہم متعدد اہم نکات اب بھی حل طلب ہیں۔

ان میں سب سے نمایاں تقریباً 440 کلوگرام اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کا معاملہ ہے۔ ایران اس مواد کو کسی تیسرے ملک خصوصاً امریکہ منتقل کرنے کی مخالفت کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن اس مطالبے پر قائم ہے۔اسی طرح بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں اور رقوم کا مسئلہ بھی مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ بنا ہوا ہے، جس کے حل کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande