
بھوپال، 31 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے سابق حزب اختلاف رہنما اور سینئر کانگریس لیڈر اجے سنگھ نے ریاست میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے پٹرول اور ڈیژل پر لگائے جانے والے ریاستی ٹیکسوں (ویٹ) میں 50 فیصد کی فوری کٹوتی کرنے کا مطالبہ کیا ہے. انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ کی لاگت پر پڑ رہا ہے، جس سے روزمرہ کی ضروری اشیاء اور اناج مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔
اجے سنگھ نے اتوار کے روز اپنے بیان میں کہا کہ پٹرول اور ڈیژل کی بڑھی ہوئی قیمتوں کے سبب بازار میں ضروری سامان کی قیمتیں تقریباً دوگنے تک پہنچ گئی ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر عام اور کم آمدنی والے طبقے کے خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔ انہوںں نے مشورہ دیا کہ اگر ایندھن پر ٹیکسوں میں کٹوتی کی جائے تو اس کا براہِ راست فائدہ ٹرانسپورٹ کی لاگت میں کمی کے طور پر ملے گا اور بازار میں ضروری اشیاء کی قیمتیں خود بخود کم ہوں گی۔
سابق حزب اختلاف رہنما نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) کے ذریعے گیہوں، چاول، دال، کھانے کے تیل اور چینی جیسی ضروری اشیاء کو کنٹرول شدہ نرخوں پر عام عوام کو دستیاب کرائے، تاکہ کمزور طبقے کو راحت مل سکے۔ اجے سنگھ نے کہا کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ دباو غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے سبب لوگوں کے لیے گھر چلانا، تعلیم اور روزمرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت جلد ہی راحت بخش اقدامات نہیں اٹھاتی ہے، تو عوام تحریک کے لیے مجبور ہو سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن