
ممبئی ، 31 مئی (ہ س) تمباکو کی لت منہ کے کینسر، دل کی بیماریوں، پھیپھڑوں کے امراض اور کئی دیگر سنگین بیماریوں کو دعوت دیتی ہے۔ تمباکو سے دور رہنا اور دوسروں کو بھی اس سے دور رکھنے کی ترغیب دینا ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے۔ یہ بات تھانے کے ضلع سرجن ڈاکٹر کیلاش پوار نے کہی۔ وہ ہفتہ کے روز عالمی یومِ انسدادِ تمباکو کے موقع پر تھانے ضلع جنرل اسپتال میں نیشنل ٹوبیکو کنٹرول پروگرام کے تحت منعقدہ عوامی بیداری پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
ڈاکٹر کیلاش پوار نے تمباکو کے مضر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمباکو پر قابو پانے کے لیے صرف قوانین کا نفاذ کافی نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر عوامی بیداری اور مشاورتی خدمات بھی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر نوجوان نسل کو تمباکو کی لت سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل ٹوبیکو کنٹرول پروگرام کے تحت ضلع بھر میں مسلسل عوامی بیداری مہمات، اسکولی پروگرام، تربیتی نشستیں، مشاورتی کیمپ اور تمباکو ترک کرنے کے مراکز چلائے جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2012 سے اب تک 2,437 تمباکو سے پاک اسکول قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ 73,777 افراد نے تمباکو چھوڑنے کے مراکز میں اپنا اندراج کرایا۔ ان میں سے 1,588 افراد کامیابی کے ساتھ تمباکو کی عادت ترک کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انسدادِ تمباکو قانون کے مؤثر نفاذ کے دوران سی او ٹی پی اے ایکٹ 2003 کے تحت 9,233 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی اور 11 لاکھ 83 ہزار 956 روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف سطحوں پر 965 تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
تھانے کی ضلع ڈینٹل سرجن ڈاکٹر ارچنا پوار نے بتایا کہ منہ کے کینسر کی روک تھام کے خصوصی پروگرام کے تحت 209 مشتبہ مریضوں کا معائنہ کیا گیا، 92 افراد کی بایوپسی کی گئی، 53 مریضوں میں منہ کے کینسر کی تشخیص ہوئی جبکہ 14 مریضوں کا آپریشن کیا گیا۔ اس پروگرام میں عوامی بیداری ریلی اور تمباکو سے پاک زندگی گزارنے کے عہد کی تقریب بھی شامل تھی۔ اسپتال انتظامیہ نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ تمباکو کے خلاف مہم میں فعال کردار ادا کریں اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اپنا تعاون دیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے