ساکیت کے سیدالعجائب میں چار منزلہ عمارت منہدم، کینٹین اور کوچنگ سینٹر پر گرا ملبہ، 11 لوگوں کو نکالا گیا
نئی دہلی، 31 مئی (ہ س)۔ جنوبی دہلی کے ساکیت میٹروسٹیشن کے قریب واقع سیدالعجائب علاقے میں ہفتہ کی شام ایک چار منزلہ تجارتی عمارت اچانک بھربھرا کر منہدم ہو گئی۔ حادثے کے بعد علاقے میں افرا تفری مچ گئی اور چاروں طرف دھول کا غبار چھا گیا۔ عمارت کا ملبہ
عمارت گرنے والی جگہ کی فوٹو


نئی دہلی، 31 مئی (ہ س)۔ جنوبی دہلی کے ساکیت میٹروسٹیشن کے قریب واقع سیدالعجائب علاقے میں ہفتہ کی شام ایک چار منزلہ تجارتی عمارت اچانک بھربھرا کر منہدم ہو گئی۔ حادثے کے بعد علاقے میں افرا تفری مچ گئی اور چاروں طرف دھول کا غبار چھا گیا۔ عمارت کا ملبہ برابر میں ٹین شیڈ کے نیچے چلنے والی ایک کینٹین اور آس پاس کے دیگر ڈھانچوں پر جا گرا۔ اس وقت کینٹین میں کچھ طلبہ کھانا کھا رہے تھے، جس کی وجہ سے ان کے ملبے میں دبنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس، فائر بریگیڈ، این ڈی آر ایف اور دیگر امدادی ایجنسیوں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ خبر لکھے جانے تک جاری راحت اور بچاو مہم میں 11 لوگوں کو محفوظ باہر نکال لیا گیا، جبکہ ملبے میں دیگر لوگوں کے پھنسے ہونے کے خدشے کے پیش نظر تلاشی مہم جاری رہی۔

فائر فائٹرز کے مطابق، شام 7.44 بجے عمارت گرنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی سات گاڑیوں کو موقع پر روانہ کیا گیا۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آیا کہ سعید اللہ جاب کی گلی نمبر 5 میں واقع اس عمارت کی چوتھی منزل پر تعمیراتی کام چل رہا تھا۔ جب امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچیں تو پوری عمارت کنکریٹ کے ملبے، مڑے ہوئے سریوں اور ٹوٹے ہوئے ستونوں کے ایک بہت بڑے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق، یہ حادثہ اتنا اچانک ہوا کہ لوگوں کو سنبھلنے تک کا موقع نہیں ملا۔

حادثے کے وقت عمارت سے متصل ایک کینٹین میں طلبہ کھانا کھا رہے تھے۔ عمارت گرنے کے ساتھ ہی اس کا بھاری ملبہ کینٹین پر آ گرا۔ مقامی لوگوں اور بچاو کارکنوں نے فوری طور پر امدادی کام شروع کیا اور کئی طلبہ کو ملبے سے باہر نکالا۔ زخمیوں کو ابتدائی علاج کے بعد ایمس ٹروما سینٹر بھیجا گیا۔ اسپتال میں دیر رات تک اہل خانہ کی بھیڑ لگی رہی۔ کئی خاندان اپنے بچوں کی معلومات کے لیے اسپتال اور جائے حادثہ کے درمیان بھٹکتے رہے۔ وہیں زخمیوں کو فوراً اسپتال پہنچانے کے لیے پولیس نے گرین کوریڈور بنوایا۔

پولیس حکام کے مطابق، عمارت کے گراونڈ فلور کے ایک حصے میں کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چل رہا تھا۔ خدشہ ہے کہ ملبے میں کوچنگ سینٹر سے منسلک طلبہ بھی پھنسے ہو سکتے ہیں۔ تاہم، حادثے کے وقت عمارت میں کل کتنے لوگ موجود تھے، اس کی واضح معلومات دیر رات تک نہیں مل سکی تھی۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ہفتہ ہونے کی وجہ سے عمارت میں عام دنوں کے مقابلے کم لوگ موجود تھے، ورنہ نقصان کہیں زیادہ بڑا ہو سکتا تھا۔ اس عمارت میں کئی نجی دفاتر بھی ہیں۔

ادھر حادثے کے فوراً بعد آس پاس کے لوگ موبائل فون اور ٹارچ لے کر موقع پر پہنچ گئے۔ کئی لوگوں نے فائر بریگیڈ اور پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی امدادی کام شروع کر دیا۔ مقامی لوگوں نے ملبہ ہٹا کر تین لوگوں کو باہر نکالا اور پی سی آر کی مدد سے اسپتال پہنچایا۔ بعد میں پولیس، فائر بریگیڈ اور این ڈی آر ایف کی ٹیموں نے مشترکہ مہم چلا کر کئی زخمیوں کو ملبے سے نکالا۔ جائے حادثہ پر موجود لوگ لگاتار بچاو ٹیم کی مدد کرتے رہے۔

عینی شاہدین کے مطابق، عمارت گرتے ہی پورے علاقے میں دھول کا غبار چھا گیا۔ کچھ منٹوں تک کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس دوران صرف ملبے کے نیچے سے آنے والی چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ دھول کا غبار چھٹنے کے بعد لوگوں کو معلوم ہوا کہ مرکزی عمارت کے ساتھ ساتھ اس سے متصل ایک اور ڈھانچے کا حصہ بھی متاثر ہو گیا ہے۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی اور اپنے طور پر امدادی کام شروع کر دیا۔

امدادی مہم کے دوران جے سی بی مشینوں کی مدد سے احتیاط کے ساتھ ملبہ ہٹایا گیا۔ بھاری کنکریٹ سلیب اور لوہے کے گاڈروں کو کاٹنے کے لیے ہائیڈرولک جیک اور خصوصی کٹروں کا استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ’وکٹم لوکیشن کیمرہ‘ اور ’ارتھ اوگر ڈرلنگ مشین‘ جیسے جدید آلات کا استعمال کیا گیا تاکہ کسی بھی زندہ شخص تک محفوظ طریقے سے پہنچا جا سکے۔ دیر رات تک بچاو ٹیم مقامی لوگوں کی مدد سے ملبہ ہٹانے اور ممکنہ طور پر پھنسے ہوئے لوگوں کی تلاش میں مصروف رہی۔

مقامی باشندے کیدار یادو نے بتایا کہ ان کی بیٹی شیتل یادو میڈیکل کے داخلہ امتحان کی تیاری کر رہی ہے۔ واقعے کے وقت وہ اسی علاقے میں موجود تھی۔ حادثے کی اطلاع ملنے پر وہ فوراً جائے حادثہ پر پہنچے اور بعد میں ایمس ٹروما سینٹر پہنچے، جہاں زخمی طلبہ کی شناخت کی جا رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں درجنوں خاندان اپنے بچوں کی معلومات کے لیے پریشان نظر آئے۔ کئی والدین کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ان کا بچہ زخمی ہے یا محفوظ۔

حادثے کے بعد پولیس نے عمارت کی ملکیت اور تعمیر سے متعلق دستاویزات کی جانچ شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال ترجیح ملبے میں پھنسے لوگوں کو محفوظ نکالنا ہے۔ پولیس اس بات کی بھی جانچ کرے گی کہ عمارت کی تعمیر کے لیے متعلقہ محکموں سے ضروری اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔ ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد عمارت کے مالک اور تعمیراتی کام سے جڑے ٹھیکیدار کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ حادثہ پیر سے جمعہ کے درمیان دفتری اوقات میں ہوا ہوتا تو صورتحال کہیں زیادہ خوفناک ہو سکتی تھی۔ روزانہ اس تجارتی عمارت میں سینکڑوں لوگوں کی آمد و رفت رہتی تھی۔ ایک رہائشی کے مطابق، عام دنوں میں تقریباً 300 سے 400 لوگ اس عمارت میں آتے جاتے تھے۔ ہفتہ ہونے اور شام کا وقت ہونے کی وجہ سے اندر لوگوں کی تعداد نسبتاً کم تھی، جس سے بڑا جانی نقصان ٹل گیا۔

دہلی میں پہلے بھی ہوچکے ہیں ایسے حادثے:

19 اپریل 2025: دیال پور کے شکتی وہار میں کثیر منزلہ عمارت منہدم ہوئی۔

11 جولائی 2025: آزاد پور منڈی علاقے میں عمارت گرنے سے ایک شخص کی موت۔

12 جولائی 2025: ویلکم علاقے میں چار منزلہ عمارت منہدم ہو گئی۔

20 اگست 2025: دریا گنج کے سدبھاونا پارک کے پاس عمارت گرنے سے تین لوگوں کی موت۔

13 ستمبر 2021: ملکا گنج علاقے میں تین منزلہ عمارت منہدم ہونے کا واقعہ ہوا تھا۔

خبر لکھے جانے تک این ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ، دہلی پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی ٹیمیں مشترکہ طور پر راحت اور بچاو کام میں مصروف تھیں۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ ملبے میں پھنسے ہر شخص تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد کو لے کر دیر رات تک کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande