2010ء سے قبل کے اساتذہ کو ٹیٹ سے مستثنیٰ دینے کا مطالبہ
حیدرآباد، 31 مئی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے 23اگسٹ 2010 سے قبل تقررپانے والے اساتذہ کو ٹیٹ سے مستثنیٰ قرار دینے کے لئے داخل کی گئی درخواست کومسترد کرتے ہوئے اس بات کی ہدایت دی کہ اساتذہ جو خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں 2 کے بجائے 3 سال کی مدت کے دوران
2010ء سے قبل کے اساتذہ کو ٹیٹ سے مستثنیٰ دینے کا مطالبہ


حیدرآباد، 31 مئی (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے 23اگسٹ 2010 سے قبل تقررپانے والے اساتذہ کو ٹیٹ سے مستثنیٰ قرار دینے کے لئے داخل کی گئی درخواست کومسترد کرتے ہوئے اس بات کی ہدایت دی کہ اساتذہ جو خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں 2 کے بجائے 3 سال کی مدت کے دوران ٹیٹ میں کامیابی حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ جسٹس دپانکر دتا جسٹس منموہن نے جاریہ ماہ کے وسط میں 13 مئی کو اس معاملہ کی تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ کو محفوظ کیا تھا جو کہ 29 مئی کو جاری کیا گیا۔ اسکول ٹیچرس فیڈریشن آف انڈیا کے علاوہ اساتذہ کی مختلف تنظیموں ‘ یونینوں‘وریاستی حکومتوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے احکامات کوچیالنج کرتے ہوئے درخواست داخل کی تھی جن میں ریاستی حکومت تلنگانہ کی درخواست بھی شامل تھی۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستی حکومتوں کو اس بات کی ہدایت دی کہ وہ ہر 6ماہ میں ایک مرتبہ ٹیٹ ٹیچرس کے اہلیتی امتحان کا انعقاد کریں تاکہ قانون حق تعلیم کے تحت موجود رہنمایانہ خطوط کے مطابق خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو متعدد مواقع حاصل ہوں اور وہ ان اہلیتی امتحانات میں شرکت کے ذریعہ اپنی اہلیت کو ثابت کرسکیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اساتذہ کو ٹیٹ سے مستثنیٰ قرار دیئے جانے کی درخواست کو مسترد کئے جانے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اساتذہ کی تنظیموں کی جانب سے کہا جار ہاہے کہ سرکاری اساتذہ جو برسوں سے پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں وہ اب ٹیچرس کے اہلیتی امتحان کامیاب کرنے کے لئے مجبور ہورہے ہیں۔ نیشنل کونسل فار ٹیچرس ایجوکیشن اور ریاستی حکومت کی جانب سے اساتذہ کے لئے ٹیٹ کے بغیرہی ملازمت کی فراہمی اوران کی برقراری کو یقینی بنائے جانے کے بعد اب اچانک انہیں ٹیٹ کامیاب کرنے کی شرط عائد کی جا رہی ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ یونا ئیٹیڈ ٹیچرس فیڈریشن کے ذمہ داروں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون حق تعلیم کی دفعہ 23 میں ترمیم کے ذریعہ برسرکار اساتذہ کی ملازمتوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ انہیں قانونی طور پر تحفظ حاصل ہوسکے اور ملازمت سے محرومی کا انہیں کوئی خدشہ نہ رہے۔جسٹس دپا نکردتا اورجسٹس منموہن کے اس فیصلہ کے بعد سرکاری اساتذہ کو ٹیٹ کے اہلیتی امتحان میں کامیابی لازمی قرار دی جاچکی ہے لیکن انہیں 3 سال کے دوران 6 مرتبہ ٹیٹ میں حصہ لیتے ہوئے کامیابی کا موقع حاصل رہے گا۔

۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande