پونے زہریلی شراب سانحہ: ہڈپسر میں زیرِ علاج مزید دو افراد دم توڑ گئے ,ہلاکتوں کی تعداد 24 ہو گئی
پونے، 31 مئی (ہ س) ۔ پونے اور پمپری-چنچواڑ علاقے کو ہلا کر رکھ دینے والے زہریلی شراب سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 24 ہو گئی ہے۔ ہڈپسر کے کالے پڈل علاقے میں زیرِ علاج مزید دو افراد کے انتقال کے بعد انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ ہو گیا
Crime Maha Pune Toxic Liquor


پونے، 31 مئی (ہ س) ۔ پونے اور پمپری-چنچواڑ علاقے کو ہلا کر رکھ دینے والے زہریلی شراب سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 24 ہو گئی ہے۔ ہڈپسر کے کالے پڈل علاقے میں زیرِ علاج مزید دو افراد کے انتقال کے بعد انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ متوفیوں کی شناخت وکاس کسان کیداری (60) اور نیلیش گھولپ (45) کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں سسانے نگر علاقے کے رہائشی تھے اور علاج کے دوران دم توڑ گئے۔ان نئی ہلاکتوں کے بعد پونے شہر میں اموات کی مجموعی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے۔ فگوے واڑی، اُرولی کانچن اور دیگر علاقوں سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد پورے ضلع میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے تحقیقات ریاستی محکمۂ جرائم تفتیش (سی آئی ڈی) کے حوالے کر دی ہیں۔ تفتیش کے لیے سی آئی ڈی کی پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔دریں اثنا، فرائض میں غفلت اور نگرانی میں کوتاہی کے الزامات کے تحت پولیس اور ریاستی محکمۂ محصولاتِ شراب کے متعدد افسران اور ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔ اس معاملے میں بھیونڈی کا تعلق بھی سامنے آیا ہے۔ محکمۂ خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) نے بھیونڈی کے ایک گودام پر چھاپہ مار کر 5,929 لیٹر میتھانول ضبط کیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پونے میں تیار کی گئی زہریلی شراب میں اسی میتھانول کا استعمال کیا گیا تھا۔واقعے کے بعد ریاستی محکمۂ محصولاتِ شراب نے پونے اور پمپری-چنچواڑ میں بڑے پیمانے پر مہم شروع کی ہے۔ اس کارروائی کے دوران 4,480 لیٹر دیسی شراب ضبط کی گئی جبکہ شراب سازی کے لیے ذخیرہ کیے گئے تقریباً 42 ہزار لیٹر خطرناک کیمیائی مادے کو تلف کر دیا گیا۔ اب تک اس معاملے میں 52 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ پونے دیہی علاقوں میں بھی غیر قانونی بھٹیوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ ملشی تعلقہ کے مختلف دیہات میں 10 سے 12 غیر قانونی شراب بھٹیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔اس سانحے کے اثرات ریاست بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ناگپور ضلع میں بھی غیر قانونی شراب کے خلاف خصوصی مہم چلائی گئی، جس کے تحت شہر اور دیہی علاقوں کے 43 مقامات پر چھاپے مار کر 56 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پونے کے اس ہولناک سانحے کے بعد اگرچہ ریاست بھر میں غیر قانونی شراب کے خلاف سخت کارروائیاں شروع ہو گئی ہیں، تاہم شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اتنی بڑی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد ہی متعلقہ نظام حرکت میں کیوں آیا۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande