
جموں, 31 مئی (ہ س)۔
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق نائب صدر مرزا مظفر بیگ نے ضلع ڈوڈہ کے لال درمن علاقے کی مسلسل نظراندازکئے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈوڈہ-بجارنی -لال درمن سڑک کے باقی ماندہ 3.5 کلومیٹر حصے کی میکڈمائزیشن نہ ہونے سے عوام اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سڑک کے تقریباً 16 کلومیٹر حصے پر کام مکمل ہو چکا ہے، تاہم آخری 3.5 کلومیٹر حصہ بدستور خستہ حال ہے، جس کے باعث لال درمن جیسے خوبصورت سیاحتی مقام تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ سیاحت کے بے پناہ امکانات کا حامل ہے اور یہاں متعدد ثقافتی و سیاحتی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں۔مرزا مظفر بیگ نے کہا کہ جلد ہی سری لنکا کی ایک کرکٹ ٹیم علاقے میں منعقد ہونے والے ٹی-20 ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی، ایسے میں خراب سڑکیں اور پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولیات کی کمی خطے کی منفی تصویر پیش کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیسہ روڈ بھی انتہائی خراب حالت میں ہے، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کو روزمرہ زندگی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر خطے کی ترقی کے حوالے سے عدم سنجیدگی کا الزام عائد کیا۔بیگ نے ڈوڈہ-دیسہ-کپرن سڑک منصوبے کے لیے ڈی پی آر کی فوری تیاری اور منظوری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس سڑک کو ہماچل پردیش کے چمبہ سے جوڑ دیا جائے تو یہ پورے چناب ویلی کے لیے ایک تاریخی منصوبہ ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف بین ریاستی رابطہ بہتر ہوگا بلکہ تجارت، سیاحت اور اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ ڈوڈہ-بجارنی لال درمن سڑک کے باقی ماندہ حصے کی فوری میکڈمائزیشن، پینے کے پانی کی مناسب فراہمی، دیسہ روڈ کی مرمت اور ڈوڈہ-دیسہ کپرن منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
مرزا مظفر بیگ نے کہا کہ چناب ویلی کی خوشحالی کے لیے بہتر سڑک رابطہ، متوازن علاقائی ترقی اور سیاحت کا فروغ ناگزیر ہے، جس کے لیے انتظامیہ کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر