مرکزی حکومت طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ نہ کرے : کے ٹی آر
مرکزی حکومت طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ نہ کرے : کے ٹی آرحیدرآباد، 31 مئی (ہ س)۔ سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ بارہویں جماعت کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں میں ایک نیا بڑا سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے ۔ بی آرایس کے و
مرکزی حکومت طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ نہ کرے  : کے ٹی آر


مرکزی حکومت طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ نہ کرے : کے ٹی آرحیدرآباد، 31 مئی (ہ س)۔

سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ بارہویں جماعت کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں میں ایک نیا بڑا سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے ۔ بی آرایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے اس حساس مسئلہ پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مودی حکومت اور سی بی ایس ای بورڈ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ کے ٹی آر نے سنسنی خیزالزام لگایا ہے کہ جو متنازعہ کمپنی ماضی میں تلنگانہ انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں سنگین گڑبڑکی ذمہ داری تھی اسی بلیک لسٹیڈ کمپنی نے اب اپنا نام بدل کرسی بی ایس ای کابڑا کنٹرا کٹ حاصل کرلیا جس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پرلگ گیا ہے۔ کے ٹی آرنے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پربارہویں جماعت کے ان طلبہ کو مبارکباد دی اور ان کی ستائش کی جوسیبیایسای کے نمبرات کی تقسیم میں ہونے والی نا انصافیوں اور فاش غلطیوں کے خلاف سڑکوں پر بہادری سے لڑ رہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ گلوبارنیا وہی کمپنی ہے جس نے سال 2019 کے دوران تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں ہیرا پھیری کرتے ہوئے پوری ریاست میں ایک بڑا انتشار اور کہرام مچا دیا تھا جس کے نتیجے میں کئی معصوم طلبہ نے انتہائی اقدامات کرلیے تھے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نا اہل کمپنی نے اب چہرے بدل کر سی بی ایس سی سے ایک بڑا معاہدہ حاصل کرلیا ۔ بی آرایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے سیبیایسای بورڈ پر براہ راست سازش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے ایک نا اہل اورکرپٹ فرم کو فائدہ پہونچانے کے لیے اپنے قائم کردہ قوانین میں بار بار تبدیلیاں کیں اور کمپنی کی ماضی کی داغدار تاریخ کو یکسر نظر انداز کردیا۔۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande