
نئی دہلی، 31 مئی (ہ س):۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے سی بی ایس ای کلاس 12 کی جوابی شیٹ کی جانچ کے تنازعہ کے بارے میں مرکزی حکومت کے نقطہ نظر پر ایک بار پھر سوال اٹھایا ہے۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ ایک بڑے پیمانے پر ڈیٹا لیک ہے جس نے 20 لاکھ طلباء کی پرائیویسی کو سنگین طور پر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہکویمپٹ اسی کمپنی ہے جسے سی بی ایس ای ے آر ایف پی کی تکنیکی شرائط میں تبدیلی کرنے کے بعد معاہدہ کیا تھا۔ اس تبدیلی سے ممکنہ طور پر کوویممپٹ کمپنی کو فائدہ پہنچا۔
رمیش نے جوابی پرچوں میں نظر آ رہے کاغذ کے مڑنے کے نشانات اور عکس جیسے نشانوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نشان عام طر پر موبائل فن سے کئے گئے اسکین میں نظر آتے ہیں۔
نہ کی اسکیننگ مشینوں سے۔ تیسرے آر ایف پی میں روبوٹک اسکینر کی لازمی شرط ہٹا دیا گیا تھا ایسے میں کوئیمپٹ کمپنی نے آخر کس طرح کے اسکینرس کا استعمال کیا۔
جے رام رمیش نے اس پورے معاملے کو تعلیمی نظام اور طلباء کی حفاظت کے تئیں لاپرواہی قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم کی حساس معلومات کا اس طرح کا افشاء انتہائی سنگین ہے اور اس میں ملوث کمپنیوں اور حکام کو جوابدہ ہونا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ