(اپ ڈیٹ ) آسام کے رنگیا میں پرائمری اسکول کے احاطے میں پاکستانی پرچم ملنے کے بعد تفتیش شروع  کی گئی
کامروپ (آسام)، 31 مئی (ہ س)۔ آسام کے رنگیا علاقے میں واقع نج ہچانگ پرائمری اسکول کے احاطے میں پاکستانی پرچم ملنے کے بعد مقامی تناؤ کا ماحول ہے۔ واقعہ کے انکشاف کے بعد علاقہ مکینوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انتظامیہ نے فوری طور پر تحقیقات کا آغا
(اپ ڈیٹ ) آسام کے رنگیا میں پرائمری اسکول کے احاطے میں پاکستانی پرچم ملنے کے بعد تفتیش شروع  کی گئی


کامروپ (آسام)، 31 مئی (ہ س)۔ آسام کے رنگیا علاقے میں واقع نج ہچانگ پرائمری اسکول کے احاطے میں پاکستانی پرچم ملنے کے بعد مقامی تناؤ کا ماحول ہے۔ واقعہ کے انکشاف کے بعد علاقہ مکینوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انتظامیہ نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

دریں اثنا، بجرنگ دل کی مقامی یونٹ نے اس واقعے کے سلسلے میں اتوار کو 12 گھنٹے کے 'رنگیا بند' کا اعلان کیا ہے۔ علاقے کے بعض حصوں میں بند کا اثر محسوس کیا جا رہا ہے۔ تاہم اب تک کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ نے حالات کو معمول پر لانے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پرائمری اسکول کے احاطے میں ایک آنگن واڑی سنٹر بھی کام کرتا ہے۔ ہفتہ کو آنگن واڑی سنٹر کے سامنے ایک بلند مقام پر پاکستانی پرچم لہرا ہوا پایا گیا۔ یہ اطلاع ملتے ہی مقامی رہائشی اور مختلف تنظیموں کے ارکان جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی گئی جس کے بعد رنگیا پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔ پولیس نے پاکستانی پرچم کو قبضے میں لے کر معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

اس دوران کئی تنظیموں نے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس ملزم کی شناخت کی کوشش میں فی الحال قریبی سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے۔

عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے انتظامیہ نے کہا ہے کہ معاملے کی انتہائی سنجیدگی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور مجرموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande