تلنگانہ کابینہ میں توسیع و ردوبدل پر سرگرمیاں تیز
تلنگانہ کابینہ میں توسیع و ردوبدل پر سرگرمیاں تیز حیدرآباد ، 31 مئی (ہ س) ۔ کرناٹک میں وزیراعلی سد ارامیا کے استعفیٰ کے بعد تلنگانہ میں کانگریس حکومت کابینہ میں توسیع وردو بدل کی سرگرمیاں تیز کرچکی ہے اور کابینہ میں شمولیت کے خواہشمند قائدین دہ
تلنگانہ کابینہ میں توسیع و ردوبدل پر سرگرمیاں تیز


تلنگانہ کابینہ میں توسیع و ردوبدل پر سرگرمیاں تیز

حیدرآباد ، 31 مئی (ہ س) ۔

کرناٹک میں وزیراعلی سد ارامیا کے استعفیٰ کے بعد تلنگانہ میں کانگریس حکومت کابینہ میں توسیع وردو بدل کی سرگرمیاں تیز کرچکی ہے اور کابینہ میں شمولیت کے خواہشمند قائدین دہلی کے چکرکاٹنے لگے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ کابینہ میں توسیع اور ردو بدل کے لئے سرگرمیوں کے دوران اسپیکر تلنگانہ اسمبلی جی پرساد کمارنے دہلی میں راہل گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ریاستی کابینہ میں شامل کرنے کی درخواست کی ہے ۔ ریاستی کابینہ میں مزید 2 وزراء کو شامل کرنے کی گنجائش موجود ہے اور کہاجارہاہے کہ ضلع رنگا ریڈی سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی رام موہن ریڈی (پرگی)کے علاوہ مال ریڈی رنگاریڈی (ابراہیم پٹنم) دونوں ہی ریاستی کابینہ میں شمولیت حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

ذرائع کے مطابق پارٹی ہائی کمان نے تلنگانہ میں ریاستی حکومت کے 2.5 سال مکمل ہونے پرکابینہ میں موجود وزراء کی کارکردگی کاجائزہ لینا شروع کردیا ہے اور مجوزہ کابینی تبدیلی وتوسیع کے دوران بعض وزراء کو کابینہ سے ہٹانے کا بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ رکن اسمبلی آدی سرینواس کے علاوہ صدر پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمارگوڑ کو بھی ریاستی کابینہ میں شامل کئے جانے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں اور کہا جارہاہے کہ کانگریس ہائی کمان مہیش کمار گوڑ کو ریاستی کابینہ میں اہم عہدہ پر شامل کرنے کے حق میں ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق آئندہ چند یوم کے دوران پارٹی کے سرکردہ قائدین جو تلنگانہ میں حکومت کی ڈھائی سالہ کارکردگی اور کابینی وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں ان کی جانب سے قطعی رپورٹ پیش کئے جانے کے ساتھ ہی ریاستی حکومت کو کابینہ میں توسیع و ردوبدل کے لئے ہری جھنڈی دکھائی جاسکتی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ پارٹی ہائی کمان تلنگانہ کابینہ میں نئے چہروں کو شامل کرنے اور 2.5 سال کے دوران متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر چہروں کوہٹانے کی منصوبہ بندی کررکھی ہے اورآئندہ ماہ کے آخری ہفتہ کے دوران کسی بھی وقت ریاستی کابینہ میں توسیع اورتبدیلی کے امکانات کومسترد نہیں کیا جاسکتا۔ ۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande