عیدالاضحی پر قربانی کے وقت سوریا کے قتل کا ملزم اسد انکاونٹر میں ہلاک، کانسٹیبل زخمی
غازی آباد، 31 مئی (ہ س)۔ اترپردیش کے غازی آباد میں کھوڑا کالونی علاقے میں عیدالاضحی کے دن 11 ویں کلاس کے طالب علم سوریا چوہان کا دھار دار ہتھیار سے حملہ کر کے کیے گئے قتل کے معاملے میں فرار اہم ملزم اسد کو پولیس نے آج صبح انکاونٹر میں ہلاک کر دی
اسد انکاونٹر کی مختلف تصاویر


غازی آباد، 31 مئی (ہ س)۔ اترپردیش کے غازی آباد میں کھوڑا کالونی علاقے میں عیدالاضحی کے دن 11 ویں کلاس کے طالب علم سوریا چوہان کا دھار دار ہتھیار سے حملہ کر کے کیے گئے قتل کے معاملے میں فرار اہم ملزم اسد کو پولیس نے آج صبح انکاونٹر میں ہلاک کر دیا۔ غازی آباد پولیس کی جانب سے اسد پر 50 ہزار روپے کا انعام اعلان کیا گیا تھا۔ اس انکاونٹر میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا ہے۔ اسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

پولیس ڈپٹی کمشنر دھول جائسوال نے بتایا کہ 28 مئی کو اسد اور اس کے ساتھیوں نے سوریا چوہان (17 برس) کا چاقو مار کر قتل کر دیا تھا۔ متوفی کے اہل خانہ کی طرف سے دی گئی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے کھوڑا تھانے میں قتل سمیت متعلقہ دفعات کے تحت 5 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں ہفتہ کے روز 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا، جبکہ اہم ملزم اسد فرار چل رہا تھا۔ پولیس نے اس پر 50 ہزار روپے کا انعام مقرر کیا تھا۔ آج صبح پولیس ٹیم کو اطلاع ملی کہ اسد کھوڑا پولیس تھانہ علاقے میں اپنے کچھ دوستوں سے ملنے جا رہا ہے اور ان سے کچھ پیسے لے کر بھاگنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے جگہ جگہ بیرئیر لگا کر پورے علاقے میں سخت تلاشی مہم شروع کر دی۔ اسی دوران اسد اور اس کا ایک دوست بائیک پر آتے ہوئے دکھائی دیے۔ پولیس اہلکاروں نے جب انہیں روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے رکنے کے بجائے پولیس ٹیم پر گولی چلا دی۔ اس کے بعد پولیس نے بھی دفاعِ خود میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے گولی چلائی۔ اس میں ایک گولی اسد کو لگ گئی۔ اسد کو فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔

ڈی سی پی نے بتایا کہ اس فائرنگ کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل بھی زخمی ہو گیا اور اسے بھی اسپتال لے جایا گیا ہے۔ اسد کی بائیک برآمد کر لی گئی ہے اور جس پستول سے اس نے گولی چلائی تھی، وہ بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ پولیس پورے واقعے کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے اور آگے کی قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

سوریا کی ماں سروج نے کہا کہ میں اسد کی فوٹو دیکھنا چاہتی ہوں۔ فوٹو دیکھنے کے بعد ہی مجھے تسلی ملے گی۔ باقیوں کا انکاونٹر بھی اسی طرح ہونا چاہیے۔ سات لوگوں نے میرے بیٹے کے ساتھ ایسا کیا، سبھی کے گھروں پر بلڈوزر چلنا چاہیے۔ سوریا چوہان کے پڑوسی انکت نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ انکاونٹر ہو گیا ہے، لیکن اب آگے کے مطالبات بھی پورے ہونے چاہئیں اور ان چھ لوگوں کا بھی انکاونٹر ہونا چاہیے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سبھی چھ لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلایا جائے، ان کے گھروں کو گرا دیا جائے اور ان کی ساری جائیداد ضبط کر لی جائے۔

قابل ذکر ہے کہ 28 مئی کو کھوڑا کالونی کے نو نیت وہار کالونی میں رہنے والے سوریا چوہان (17) کو تشویشناک حالت میں ایک مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، لیکن نازک حالت کی وجہ سے اسے نوئیڈا کے ایک نجی اسپتال میں شفٹ کر دیا گیا، جہاں علاج کے دوران جمعہ کے روز اس کی موت ہو گئی۔ سوریا چوہان کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ 28 مئی کی دوپہر اسے کسی نے فون کیا تھا اور اسے ایک طے شدہ جگہ پر ملنے کے لیے بلایا تھا۔ خاندان کے ارکان نے دعویٰ کیا کہ جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں گیا تو ان کے درمیان تو تو میں میں (کہا سنی) ہو گئی، جس کے بعد اس کے پیٹ میں چاقو سے کئی وار کیے گئے۔ خاندان کے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ سوریا اپنی جان بچانے کے لیے تقریباً 200 میٹر تک بھاگا، لیکن حملہ آوروں نے اس کا پیچھا کیا اور پھر سے چاقو سے اس پر وار کیے۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد اس معاملے کو لے کر ہندو تنظیموں نے آواز اٹھائی۔ ہفتہ کے روز سوریا چوہان کے اہل خانہ نے اس کی لاش کو رکھ کر چکہ جام لگایا۔ ضلع انتظامیہ اور پولیس کے حکام کے کافی سمجھانے بجھانے کے بعد انہوں نے ہفتہ کی شام کو سوریا کی آخری رسومات ادا کیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande