بھوپال کے گووند پورہ انڈسٹریل ایریا میں لکڑی کی فیکٹری میں خوفناک آگ لگی، کروڑوں کا سامان جل کر خاک
۔ فائر بریگیڈ نے کافی مشقت کے بعد پایا قابو
بھوپال کے گووند پورہ انڈسٹریل ایریا میں لکڑی کی فیکٹری میں خوفناک آگ لگی، کروڑوں کا سامان جل کر خاک


بھوپال، 30 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے گووند پورہ انڈسٹریل ایریا میں ’شبھم انٹرپرائزز‘ نامی فیکٹری میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات خوفناک آگ لگ گئی۔ نگر نگم کے فائر عملے نے رات بھر کی سخت مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا، تاہم ہفتہ کی دوپہر تک بھی فیکٹری کے ملبے سے دھواں اور آگ سلگتی رہی۔ آگ کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

موصولہ معلومات کے مطابق، اس فیکٹری میں بڑے پیمانے پر پلائی ووڈ، لکڑی کے دروازے اور بلیک بورڈ بنانے کا کام ہوتا تھا، جس کے سبب احاطے میں کئی ٹن لکڑی، انتہائی آتش گیر کیمیکل اور تھنر کا بھاری اسٹاک رکھا ہوا تھا۔ کیمیکل اور تھنر کی موجودگی کی وجہ سے آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک شکل اختیار کر لی۔ آگ لگنے کے اس خوفناک واقعے کے بعد پورے صنعتی علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی گاندھی نگر، گووند پورہ، کولار، بیراگڑھ، فتح گڑھ، آئی ایس بی ٹی اور کباڑ خانہ سمیت شہر کے تقریباً تمام فائر اسٹیشنوں سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور پانی کے ٹینکر فوری طور پر جائے وقوعہ کے لیے روانہ کیے گئے۔

نگر نگم کے فائر انچارج سوربھ پٹیل، فائر فائٹر پنکج یادو اور اسسٹنٹ انچارج وجے ترپاٹھی سمیت 50 سے زائد افسران اور ملازمین رات بھر جان جوکھم میں ڈال کر آگ بجھانے کے کام میں مصروف ہوگئے۔ ہفتہ کی صبح تقریباً 9 بجے جا کر شعلوں پر قابو پایا جا سکا، لیکن لکڑی کے اندر سلگتی ہوئی آگ کو پوری طرح ٹھنڈا کرنے کے لیے دوپہر تک فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر تعینات رہیں۔

فائر فائٹر پنکج یادو نے بتایا کہ کیمیکل اور بھاری مقدار میں جمع لکڑی کے سبب آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس کے بعد حکمت عملی بدل کر دو جے سی بی مشینوں کو موقع پر بلایا گیا اور ان کی مدد سے فیکٹری کی جلتی ہوئی بلڈنگ کے مرکزی اسٹرکچر کو ڈھایا گیا۔ بلڈنگ گرنے کے بعد جے سی بی سے ہی دھدھکتی ہوئی لکڑیوں کو الگ الگ بکھھیرا گیا، جس کے بعد پانی کی سیدھی بوچھاریں مار کر آگ کو دبایا گیا۔

عینی شاہدین اور فائر بریگیڈ کے افسران کے مطابق، شبھم انٹرپرائزز سے بالکل متصل تین سے چار دیگر فیکٹریاں اور صنعتی یونٹس موجود تھے۔ اگر آگ ان پڑوسی فیکٹریوں تک پہنچ جاتی، تو نقصان کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ اس بڑے خطرے کو ٹالنے کے لیے نگر نگم کے عملے نے دونوں فیکٹریوں کے کنیکٹنگ پوائنٹس اور دیواروں پر لگاتار پانی کی موٹی بوچھاریں جاری رکھیں، جس سے آگ آگے نہیں پھیل سکی اور ایک بڑا حادثہ ہونے سے بچ گیا۔

شروعاتی جانچ اور مقامی سطح پر موصولہ معلومات کے مطابق، اس خوفناک آتشزدگی کی بنیادی وجہ فیکٹری کے اندر شارٹ سرکٹ مانا جا رہا ہے۔ تاہم، پولیس اور فائر بریگیڈ کی تکنیکی ٹیم معاملے کی اصل وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تفصیلی جانچ کر رہی ہے۔ اس حادثے میں فیکٹری کے اندر رکھی کروڑوں روپے کی مشینیں، تیار پلائی ووڈ، دروازے اور خام مال پوری طرح جل کر خاک ہو گئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande